افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے طالبان رجیم کے خلاف اپنی مسلح کارروائیوں میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ سمیع سادات کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6 صوبوں کے اندر 7 کارروائیاں کی گئیں، جس کے بعد مجموعی فائرنگ و حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
سربراہ اے یو ایف، لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات نے جنگجوؤں کو مبارک باد دیتے ہوئے افغانستان کی مکمل آزادی تک مہم جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو طالبان کے خلاف جاری مزاحمتی مہم کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
سو کارروائیوں کا سنگ میل عبور ہونا اے یو ایف کی مہم میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ 6 صوبوں میں بیک وقت سرگرمیاں طالبان رجیم کی اس ناکامی کو اجاگر کرتی ہیں کہ وہ اقتدار میں واپسی کے 5 سال سے زائد عرصے بعد بھی تشدد پر مکمل اجارہ داری قائم نہیں کر سکے ہیں۔
ریاستی اداروں پر کنٹرول کے باوجود طالبان رجیم سیاسی قبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جابرانہ پالیسیوں اور بدانتظامی کے باعث عوام میں بڑھتی بے چینی کے تناظر میں اے یو ایف کی مہم ان مزاحمتی تحریکوں کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے جو طالبان کی حکمرانی کو مسترد کرتی ہیں۔





