سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے نام پر گردش کرنے والی مبینہ دستاویزات اور الزامات نے ایک بار پھر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
اس تمام معاملے کے دوران سینئر صحافی حامد میر کی سرگرمیوں اور ان پر لگنے والے مبینہ الزامات پر بھی بحث شروع ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤٹ کی جانب سے شیئر کی گئی اس مبینہ دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ برطانوی ایجنسی پاکستان میں اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہے۔
تاہم، اس طرح کے دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے، یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس قسم کے مبینہ پراپیگنڈا اور دعوؤں کی صداقت پر ہمیشہ سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور عوام بخوبی جانتی ہے کہ کون کس کے اشاروں پر اور کن مقاصد کے تحت اس طرح کے جھوٹے یا من گھڑت بیانیے تشکیل دیتا ہے۔
دوسری جانب سابق سرکاری مشیر مرزا شہزاد اکبر نے بھی اس پوسٹ پر طنز کرتے ہوئے اس کی تحریر اور انگریزی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس تمام صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کو ذاتی مفادات اور مخصوص ایجنڈے کے تحت استعمال کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔





