Author: ایڈیٹوریل ڈیسک

بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم “تعمیری مسابقت” کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

May 14, 2026

کابل اور دہلی کے درمیان 46 ملین ڈالر کا حالیہ معاہدہ محض تجارتی نہیں بلکہ ایک تزویراتی چال ہے، جس کا مقصد پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ بڑھانا اور افغان سرزمین کو پراکسی وار کے لیے استعمال کرنا ہے۔

May 14, 2026

بھارت اس وقت ایک سوچی سمجھی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں وہ آہستہ آہستہ معاہدے کی اہم شقوں کو توڑ رہا ہے۔ پاکستان نے اس کیس کو مستقل عدالتِ ثالثی میں لے جا کر ایک درست قدم اٹھایا ہے، تاہم بھارت کا اس عالمی عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار اس کی بین الاقوامی لاقانونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

May 12, 2026

جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن کی نئی لکیر؛ فتح تھری سپرسونک کروز میزائل کی رونمائی نے بھارت کے براہموس میزائل کے سحر کو توڑ دیا ہے۔ ریم جیٹ ٹیکنالوجی اور آواز سے تیز رفتار کے حامل اس میزائل نے پاکستان کی ‘راکٹ فورس’ کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے، جس سے خطے میں روایتی ڈیٹرنس اور پریسیژن اسٹرائیک کی صلاحیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

May 11, 2026

آئیے آج اپنے رویوں کی اصلاح کا عہد کریں اور یہ تسلیم کریں کہ ہماری پوری زندگی ماں کے ایک آنسو کا بدل بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ عہد کریں کہ اپنی ماؤں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی کوتاہی سے کام نہیں لیں گے اور انہیں وہ مقامِ بلند دیں گے جس کا حکم ہمیں ہمارے دین اور اقدار نے دیا ہے۔

May 10, 2026

چارسدہ میں عوامی بیداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت جید علمائے کرام کے دوٹوک مؤقف نے فتنہ الخوارج کے نظریاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ اداریہ اس ابھرتی ہوئی مزاحمت اور فکری جنگ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

May 8, 2026

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

May 6, 2026

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

فروری 2026 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے، تقریباً چھ ہزار جنگجو مختلف افغان صوبوں میں سرگرم ہیں، اور انہیں پناہ، سہولت اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں چھ سو سے زائد حملوں کا سراغ افغان علاقوں تک جاتا ہے۔ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، مگر اس کا معاشی بوجھ افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

May 2, 2026

پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ‘آپریشن غضب للحق’ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔

May 2, 2026