رپورٹ کے مطابق سوات میں 400 غیرحاضر ملازمین پر کارروائی اور سیاسی پوسٹنگز کے انکشاف نے خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کی خراب گورننس اور سیاسی مداخلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد مولانا فضل الرحمان کا اپنے ہی سابق اتحادیوں کے خلاف موقف ان کی سیاسی تنہائی اور اقتدار کی تڑپ کو ظاہر کرتا ہے۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی قوتوں نے ہمیشہ مفاد کے تحت مولانا فضل الرحمٰن کا استعمال کیا۔ لیکن سیاسی تلخیوں میں اس حد تک آگے نہیں جانا چاہیے کہ کل واپسی کا دروازہ ہی بند ہو جائے۔