بھارت، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے پر فخر کرتا ہے، ایک بار پھر اپنے ہی نوجوانوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر سوالات کی زد میں ہے۔ نئی دہلی کی سڑکوں پر نکلنے والے طلبہ کا جرم محض اتنا تھا کہ انہوں نے اپنے مستقبل، اپنی تعلیم اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کی۔ جواب میں انہیں لاٹھیوں، آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا سامنا کرنا پڑا۔
نیٹ امتحان میں پرچہ لیک کوئی معمولی انتظامی غلطی نہیں، بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے برسوں کی محنت، ان کے خوابوں اور ان کے خاندانوں کی امیدوں سے کھلواڑ ہے۔ جب ریاست کا امتحانی نظام ہی شفاف نہ رہے تو نوجوانوں کا احتجاج کرنا نہ صرف ان کا جمہوری حق ہے بلکہ ایک فطری ردعمل بھی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے اس جائز مطالبے کا جواب مذاکرات کی میز کی بجائے پولیس کی لاٹھیوں سے دینے کو ترجیح دی۔
سہیل لوچھب جیسے نوجوان کی کہانی، جس کی آنکھ کی بینائی اب صرف ایک فیصد بحال ہونے کی امید پر منحصر ہے، یا شیخ ارشاد منصوری جیسے نوجوان کی حالت، جس کی گردن کے قریب پیلٹ اب بھی پھنسا ہوا ہے، محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس بات کی گواہی ہیں کہ ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کس طرح نوجوانوں کے مستقبل کو مسخ کر دیتا ہے۔ یہ سوال بھارتی حکام کے سامنے رکھا جانا چاہیے کہ کیا کسی ملک کے اپنے طلبہ پر پیلٹ گنز کا استعمال کسی بھی جواز کے تحت قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟
عالمی میڈیا جس میں الجزیرہ، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس جیسے ادارے شامل ہیں، نے بھی اس صورتحال کو مودی حکومت کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی چیلنج قرار دیا ہے۔ یہ صرف ایک اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر بھارت کے جمہوری دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ خاص طور پر 2029 کے انتخابات کی آمد سے قبل یہ احتجاج حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی عدم اطمینان کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کا سخت اقدامات کا اعلان اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی بات خوش آئند ضرور ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ یہ اقدامات احتجاج کے بعد کیوں سامنے آئے؟ کیا نظام میں شفافیت کا فقدان پہلے سے واضح نہیں تھا؟ حکومت کی جانب سے اصلاحات کا اعلان اس وقت زیادہ معتبر ہوتا جب یہ مظاہروں کے دباؤ سے پہلے کیا جاتا، نہ کہ اس کے بعد۔
اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کا یہ مطالبہ کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں، محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اس سوال کی بازگشت ہے جو ہر وہ طالب علم اٹھا رہا ہے جس کا مستقبل اس نظام کی نااہلی کی نذر ہوا۔ جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ حکومتیں اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کریں، نہ کہ اپنے ہی نوجوانوں کو سڑکوں پر طاقت کے ذریعے خاموش کروائیں۔
یہ وقت ہے کہ بھارتی حکومت اپنے تعلیمی نظام میں حقیقی اور دیرپا اصلاحات لائے، اپنے نوجوانوں کی آواز کو طاقت سے نہیں بلکہ مکالمے سے سنے، اور ان تمام افسران کا احتساب کرے جو پرچہ لیک جیسے سنگین جرم میں ملوث پائے گئے۔ ورنہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ جب بھارت کے نوجوانوں نے انصاف مانگا تو انہیں پیلٹ گنز سے جواب دیا گیا۔
دیکھیے: کاکروچ پارٹی کا احتجاج؛ نئی دہلی میں پولیس تشدد سے بھارتی نظامِ تعلیم پر سوالیہ نشان