اشتیاق کے معاملے پر سہیل آفریدی کی جانب سے اسے عاشقِ رسول قرار دینے کے بعد مذہبی جذبات کے سیاسی استعمال اور پی ٹی آئی کے کردار پر سوالات اٹھ گئے۔

September 14, 2026

لاہور میں سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ، پولیس وین سے خود اتر گئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کے دوران وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھ گئے۔

September 14, 2026

خوارج کی اصل جنگ ریاستی نظام سے نہیں بلکہ اس معتبر دینی فہم کے خلاف ہے جو خودکش حملوں اور تکفیر کو مسترد کرتا ہے، جس کی پاداش میں مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور شیخ ادریس ترنگزئی سمیت متعدد جید اکابرین کو شہید کیا گیا۔

September 14, 2026

حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے دو اہم جزیروں کا کنٹرول سنبھال کر باب المندب کے گرد گرفت مضبوط کر لی، جس سے سعودی عرب کی تیل برآمدات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

September 14, 2026

بی وائی سی کے کارندے محمد الیاس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ فتنہ الہندوستان کے لیے کام کرتا رہا اور سوشل میڈیا پر منفی بیانیہ پھیلاتا رہا۔

September 14, 2026

ویمن ایشیا کپ کے فائنل میں بھارتی ٹیم کی جیت اس وقت ماند پڑ گئی جب اس نے صدر اے سی سی سے ٹرافی لینے سے انکار کر کے کھیل کے وقار کو خاک میں ملا دیا۔

September 14, 2026

کاکروچ پارٹی کا احتجاج؛ نئی دہلی میں پولیس تشدد سے بھارتی نظامِ تعلیم پر سوالیہ نشان

تعلیمی نظام میں بدعنوانی اور پرچہ لیک اسکینڈل کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے پرامن مارچ پر نئی دہلی میں پولیس کا وحشیانہ تشدد، انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا۔
کاکروچ پارٹی کا احتجاج

نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج پر پولیس تشدد اور مودی حکومت کی خاموشی نے بھارتی جمہوریت اور نظامِ حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

July 20, 2026

نئی دہلی میں پیر کے روز جو مناظر دیکھنے میں آئے، وہ کسی بھی جمہوریت کے دعویدار ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے سینکڑوں حامی جب پارلیمنٹ کی جانب پرامن مارچ کے لیے جنتر منتر پر جمع ہوئے، تو ریاستی مشینری نے ان کا استقبال لاٹھیوں، آنسو گیس کے شیلوں اور انٹرنیٹ کی معطلی سے کیا۔ یہ مناظر اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جب کسی حکومت کے پاس عوامی سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا، تو وہ مکالمے کے بجائے طاقت کا سہارا لیتی ہے۔

اس تحریک کی بنیاد کسی سیاسی نعرے یا نظریاتی وابستگی پر نہیں بلکہ ایک نہایت بنیادی مطالبے پر رکھی گئی تھی: تعلیمی نظام میں شفافیت۔ مئی میں جب قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہوا اور بیس لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، تو یہ محض ایک انتظامی ناکامی نہیں تھی بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل، ان کی محنت اور ان کے اعتماد کے ساتھ ایک سنگین زیادتی تھی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس اسکینڈل کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی نے کم از کم بیس طلبہ کو خودکشی کی راہ پر ڈال دیا۔ یہ اعداد و شمار کسی سیاسی جماعت کے پراپیگنڈے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قوم کے نظامِ تعلیم میں سرایت کر جانے والی بدعنوانی کی الم ناک گواہی ہیں۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ جب دوبارہ منعقد کیے گئے امتحان کے نتائج بھی مبینہ بے ضابطگیوں سے پاک نہ نکلے، تو نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور پھر انہیں زبردستی ہسپتال منتقل کیا جانا، اس چنگاری کو شعلہ بنانے کا سبب بنا۔ ایک بزرگ، پرامن کارکن کے ساتھ روا رکھا گیا یہ سلوک نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ اس نے حکومت کی اس حکمتِ عملی کو بھی بے نقاب کر دیا جس میں مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بےدریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس سے قبل اپنے روایتی خطاب میں مظاہرین یا ان کے مطالبات کا سرے سے کوئی ذکر تک نہیں کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب ہزاروں نوجوان سڑکوں پر انصاف کی صدا بلند کر رہے تھے، حکومتی سطح پر یہ خاموشی خود ایک پیغام ہے، وہ پیغام جو کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے بیان میں دیا: کہ حکمرانوں کو نوجوانوں کی فکر نہیں۔

بھارت کی معیشت خواہ کتنی ہی تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کا دعویٰ کرے، لیکن جب پندرہ سے انتیس برس کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے تین گنا زیادہ ہو، اور تعلیمی نظام بار بار بدعنوانی کی زد میں آئے، تو یہ ترقی کے دعوے کھوکھلے دکھائی دیتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت دراصل اسی بے چینی کا اظہار ہے جو برسوں سے سطح کے نیچے پک رہی تھی۔

جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ وہ اختلاف رائے اور احتجاج کو برداشت کرے، نہ کہ اسے لاٹھیوں اور آنسو گیس سے کچلنے کی کوشش کرے۔ نئی دہلی کی سڑکوں پر نظر آنے والے یہ نوجوان دراصل اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور کسی بھی مہذب معاشرے کو یہ جنگ سمجھنی چاہیے، نہ کہ اسے دبانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حکومتِ ہند کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ نوجوانوں کی آواز کو جتنا دبایا جائے گا، وہ اتنی ہی شدت سے واپس ابھرے گی۔

اصل بات یہ ہے کہ جب کسی ملک کا نوجوان طبقہ، جو اس کے مستقبل کی بنیاد ہوتا ہے، اپنی ہی حکومت کی خاموشی اور بےاعتنائی کو محسوس کرنے لگے، تو یہ کسی سیاسی جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی کی ناکامی کی علامت ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا غصہ سڑکوں پر اسی وقت آتا ہے جب انہیں لگے کہ ان کی آواز سنی نہیں جا رہی۔ بھارتی قیادت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ جس نسل پر ملک کے مستقبل کا انحصار ہے، وہی نسل آج انصاف اور جوابدہی کے لیے سڑکوں پر لاٹھیاں کھا رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران نوجوانوں کے سوالات کا جواب طاقت سے دینے لگیں، تو وہ سوالات ختم نہیں ہوتے، بلکہ مزید توانا ہو کر لوٹتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

اشتیاق کے معاملے پر سہیل آفریدی کی جانب سے اسے عاشقِ رسول قرار دینے کے بعد مذہبی جذبات کے سیاسی استعمال اور پی ٹی آئی کے کردار پر سوالات اٹھ گئے۔

September 14, 2026

لاہور میں سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ، پولیس وین سے خود اتر گئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کے دوران وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھ گئے۔

September 14, 2026

خوارج کی اصل جنگ ریاستی نظام سے نہیں بلکہ اس معتبر دینی فہم کے خلاف ہے جو خودکش حملوں اور تکفیر کو مسترد کرتا ہے، جس کی پاداش میں مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور شیخ ادریس ترنگزئی سمیت متعدد جید اکابرین کو شہید کیا گیا۔

September 14, 2026

حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے دو اہم جزیروں کا کنٹرول سنبھال کر باب المندب کے گرد گرفت مضبوط کر لی، جس سے سعودی عرب کی تیل برآمدات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

September 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *