نئی دہلی میں پیر کے روز جو مناظر دیکھنے میں آئے، وہ کسی بھی جمہوریت کے دعویدار ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے سینکڑوں حامی جب پارلیمنٹ کی جانب پرامن مارچ کے لیے جنتر منتر پر جمع ہوئے، تو ریاستی مشینری نے ان کا استقبال لاٹھیوں، آنسو گیس کے شیلوں اور انٹرنیٹ کی معطلی سے کیا۔ یہ مناظر اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جب کسی حکومت کے پاس عوامی سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا، تو وہ مکالمے کے بجائے طاقت کا سہارا لیتی ہے۔
اس تحریک کی بنیاد کسی سیاسی نعرے یا نظریاتی وابستگی پر نہیں بلکہ ایک نہایت بنیادی مطالبے پر رکھی گئی تھی: تعلیمی نظام میں شفافیت۔ مئی میں جب قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہوا اور بیس لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، تو یہ محض ایک انتظامی ناکامی نہیں تھی بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل، ان کی محنت اور ان کے اعتماد کے ساتھ ایک سنگین زیادتی تھی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس اسکینڈل کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی نے کم از کم بیس طلبہ کو خودکشی کی راہ پر ڈال دیا۔ یہ اعداد و شمار کسی سیاسی جماعت کے پراپیگنڈے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قوم کے نظامِ تعلیم میں سرایت کر جانے والی بدعنوانی کی الم ناک گواہی ہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جب دوبارہ منعقد کیے گئے امتحان کے نتائج بھی مبینہ بے ضابطگیوں سے پاک نہ نکلے، تو نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور پھر انہیں زبردستی ہسپتال منتقل کیا جانا، اس چنگاری کو شعلہ بنانے کا سبب بنا۔ ایک بزرگ، پرامن کارکن کے ساتھ روا رکھا گیا یہ سلوک نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ اس نے حکومت کی اس حکمتِ عملی کو بھی بے نقاب کر دیا جس میں مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بےدریغ استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس سے قبل اپنے روایتی خطاب میں مظاہرین یا ان کے مطالبات کا سرے سے کوئی ذکر تک نہیں کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب ہزاروں نوجوان سڑکوں پر انصاف کی صدا بلند کر رہے تھے، حکومتی سطح پر یہ خاموشی خود ایک پیغام ہے، وہ پیغام جو کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے بیان میں دیا: کہ حکمرانوں کو نوجوانوں کی فکر نہیں۔
بھارت کی معیشت خواہ کتنی ہی تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کا دعویٰ کرے، لیکن جب پندرہ سے انتیس برس کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے تین گنا زیادہ ہو، اور تعلیمی نظام بار بار بدعنوانی کی زد میں آئے، تو یہ ترقی کے دعوے کھوکھلے دکھائی دیتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت دراصل اسی بے چینی کا اظہار ہے جو برسوں سے سطح کے نیچے پک رہی تھی۔
جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ وہ اختلاف رائے اور احتجاج کو برداشت کرے، نہ کہ اسے لاٹھیوں اور آنسو گیس سے کچلنے کی کوشش کرے۔ نئی دہلی کی سڑکوں پر نظر آنے والے یہ نوجوان دراصل اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور کسی بھی مہذب معاشرے کو یہ جنگ سمجھنی چاہیے، نہ کہ اسے دبانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حکومتِ ہند کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ نوجوانوں کی آواز کو جتنا دبایا جائے گا، وہ اتنی ہی شدت سے واپس ابھرے گی۔
اصل بات یہ ہے کہ جب کسی ملک کا نوجوان طبقہ، جو اس کے مستقبل کی بنیاد ہوتا ہے، اپنی ہی حکومت کی خاموشی اور بےاعتنائی کو محسوس کرنے لگے، تو یہ کسی سیاسی جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی کی ناکامی کی علامت ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا غصہ سڑکوں پر اسی وقت آتا ہے جب انہیں لگے کہ ان کی آواز سنی نہیں جا رہی۔ بھارتی قیادت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ جس نسل پر ملک کے مستقبل کا انحصار ہے، وہی نسل آج انصاف اور جوابدہی کے لیے سڑکوں پر لاٹھیاں کھا رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران نوجوانوں کے سوالات کا جواب طاقت سے دینے لگیں، تو وہ سوالات ختم نہیں ہوتے، بلکہ مزید توانا ہو کر لوٹتے ہیں۔