وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔
نور ولی محسود کا قرآنی آیات کو مسخ کر کے فورسز پر حملوں کی ترغیب دینا دینی اقدار اور علمی اصولوں کے منافی ہے۔ مسلمان ریاست اور فورسز کے خلاف مسلح بغاوت جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔
پکتیا میں طالبان کے نائب وزیرِ دفاع کے قافلے پر حملے اور اس میں ٹی ٹی پئ رہنما کی موجودگی نے پاکستان کے تحفظات درست ثابت کر دیے ہیں، جبکہ ابھرتی مزاحمت سے طالبان کی حکومتی رٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بھارت اندرونی طور پر نوجوانوں کی بے چینی اور بیرونی طور پر اپنے شہریوں کے عالمی جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات سے دوچار ہے۔ مودی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق میں فرق اب واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔
بدخشاں اور نیمروز میں تیزی سے پھیلتی عسکری مزاحمت، عالمِ دین کا شدید مذہبی فتویٰ اور افغان بچوں کا عسکری استعمال؛ طالبان حکومت شدید داخلی اور بقائی بحران کی زد میں۔
بدخشاں میں قندھار کی مرکزی قیادت کے سخت رویے، معدنی وسائل پر تسلط اور انتظامی ناہمواری کے باعث عوامی بے چینی ایک شدید اور منظم مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔