افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں میں طالبان پر بڑے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 11 جنگجوؤں کو ہلاک اور 3 کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

August 11, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے اہم خوارج دہشت گرد زکریا کو ہلاک کر دیا ہے۔

August 11, 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔

August 11, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ایرانی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

August 11, 2026

کوئٹہ میں جشنِ آزادی کی مناسبت سے کھیلوں کی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں آزادی ایتھلیٹکس کے مقابلوں کے ساتھ باکسر عابدہ بتول نے عالمی سطح پر گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔

August 11, 2026

افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

نو مئی سے ڈی چوک تک: ریاست مخالف سیاست کا تسلسل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔

سہیل آفریدی کے ملک گیر احتجاج کے اعلان نے پی ٹی آئی کی سیاست کو ایک بار پھر زیرِ بحث لا کھڑا کیا ہے۔ 9 مئی سے آج تک، مذاکرات کے بجائے سڑکوں کا انتخاب کیوں کیا جاتا رہا؟

August 11, 2026

پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر لانگ مارچ کی تاریخ پر پیدا ہونے والا تازہ اختلاف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان، کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ اس جماعت کے اس مخصوص طرزِ سیاست کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا اور ملک گیر انتشار کی دھمکیاں دینا معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ رویہ کوئی نئی حکمتِ عملی نہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے اسی جماعت کی سیاسی حرکیات کا بنیادی خاصہ رہا ہے۔

یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے ملک بھر میں فوجی تنصیبات، جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور اور شہدا کی یادگاروں پر حملے کیے گئے تھے۔ یہ محض چند پرجوش کارکنوں کی انفرادی زیادتی نہیں تھی بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے شواہد سامنے آئے تھے، جس پر ملک کی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے اور متعدد افراد کو سزائیں بھی سنائی گئیں۔ اس واقعے نے ایک ایسا نقش چھوڑا جس نے پارٹی کی سیاسی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے، اور یہ تاثر مضبوط کیا کہ جب بھی اس جماعت کے مطالبات یا توقعات پوری نہ ہوں، سڑکوں پر انتشار اسی حکمتِ عملی کا حصہ بن جاتا ہے۔

9 مئی سے قبل بھی 2014 کا دھرنا، 2022 کا حقیقی آزادی مارچ، اور اس کے بعد اسلام آباد میں بار بار دیے گئے احتجاجی کالز۔۔۔۔۔ ان تمام مواقع پر مشترکہ نکتہ یہی رہا ہے کہ سیاسی مطالبات کو مذاکراتی میز کے بجائے دارالحکومت کو محاصرے میں لے کر، ریاستی رٹ کو چیلنج کر کے اور عوام کو پریشانی میں مبتلا کر کے منوانے کی کوشش کی گئی۔ یہی طرزِ عمل آج ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ یہ اعلان کسی جماعتی عہدیدار کی جانب سے نہیں بلکہ ایک صوبے کے آئینی منصب پر فائز وزیراعلیٰ کی زبان سے سامنے آیا ہے۔

سرکاری منصب کا استعمال؟

اسی پس منظر میں جب آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سرکاری منصب پر فائز رہتے ہوئے سپریم کورٹ کے سامنے دھرنے اور ملک گیر ڈی چوک بنانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، تو یہ رویہ اتفاقی نہیں بلکہ اسی سیاسی حکمتِ عملی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے جس میں ادارہ جاتی معاملات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے بجائے سڑکوں پر لے جانا اور عوام کو ہیجانی کیفیت میں مبتلا کرنا ترجیح رہا ہے۔

یہ امر خاص طور پر تشویش ناک ہے کیونکہ ایک صوبائی حکومت کا سربراہ، جس کی بنیادی ذمہ داری اپنے صوبے میں امن و امان اور انتظامی امور کی نگرانی ہے، خود ایک ایسے احتجاج کی قیادت کا اعلان کر رہا ہے جو ملک گیر انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ سوال بھی بجا طور پر اٹھتا ہے کہ آیا صوبائی وسائل اور انتظامی مشینری کو اس نوعیت کی سیاسی مہم جوئی میں استعمال کرنا آئینی منصب کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

یہ اعلان مزید تشویش ناک اس لیے ہے کہ یہ عین اس وقت سامنے آیا جب ملک 14 اگست کو یومِ آزادی منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ قومی دن، جو اتحاد، یکجہتی اور مستقبل کے عزم کی علامت ہوتا ہے، ایسے موقع پر ملک گیر احتجاج اور ڈی چوک بنانے کی دھمکی دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کو قومی مفاد پر ترجیح دی جا رہی ہے۔

اندرونی اختلافات

پارٹی کے اندر ہی موجود اختلافات۔۔۔۔۔ جہاں بیرونِ ملک بیٹھے رہنما اپنے ہی منتخب وزیراعلیٰ پر خفیہ ڈیل کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی کا عمل کسی جمہوری یا شفاف طریقہ کار کے تحت نہیں بلکہ ذاتی رقابتوں اور اقتدار کی کشمکش کے زیرِ اثر چل رہا ہے۔ ایک ایسی جماعت جو خود کو احتساب اور شفافیت کی علمبردار قرار دیتی ہے، اگر اس کے اپنے اندرونی فیصلے بھی شکوک و شبہات اور باہمی الزام تراشی سے پاک نہیں، تو یہ اس کی سیاسی بیانیہ سازی پر ایک سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔

عمران خان سےملاقات جیسے معاملے کو بھی، افسوس کے ساتھ، سیاسی دباؤ بڑھانے اور احتجاجی مہم کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور اس معاملے کو ملک گیر احتجاج اور پورا پاکستان ڈی چوک بنا دیں گے جیسی دھمکیوں سے مشروط کیا جائے، تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا مقصد واقعی ملاقات کا حصول ہے یا اس کی آڑ میں ایک وسیع تر سیاسی مہم کو ہوا دینا۔

ہر بار وہی حکمتِ عملی

یہ طرزِ عمل کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی جب اس جماعت کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے، اسلام آباد کو یرغمال بنانے اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات دیکھنے میں آئے۔ یہ ایک قابلِ غور نمونہ ہے: مذاکرات کی پیشکش کے باوجود سڑکوں کا انتخاب، ادارہ جاتی چینلز کے موجود ہونے کے باوجود دباؤ کی سیاست، اور ہر بار ایک نئے حتمی احتجاج کا اعلان جو بالآخر ریاستی وسائل، معیشت اور عوامی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جمہوریت میں احتجاج اور سیاسی مخالفت ایک بنیادی حق ہے، مگر جب احتجاج کا مقصد مذاکرات نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو دباؤ میں لا کر اپنی مرضی منوانا ہو، اور اس کی تاریخ میں ریاستی تنصیبات پر حملوں جیسے واقعات بھی شامل ہوں، تو ایسے طرزِ عمل پر سوال اٹھانا فطری امر ہے۔

ملک اس وقت سرحد پار سے جاری دہشت گردی، معاشی دباؤ اور علاقائی کشیدگی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے ملک گیر انتشار کی دھمکی دینا، وہ بھی قومی دن کے قریب، ذمہ دارانہ سیاست کے منافی ہے۔ ریاستی اداروں اور عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج کا حق اور ریاستی تنصیبات و امن عامہ کا تحفظ دو الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک ساتھ قائم رہنی چاہئیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو، خواہ وہ اقتدار میں ہو یا حزبِ اختلاف میں، یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پورے ملک کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں میں طالبان پر بڑے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 11 جنگجوؤں کو ہلاک اور 3 کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

August 11, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے اہم خوارج دہشت گرد زکریا کو ہلاک کر دیا ہے۔

August 11, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ایرانی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

August 11, 2026

کوئٹہ میں جشنِ آزادی کی مناسبت سے کھیلوں کی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں آزادی ایتھلیٹکس کے مقابلوں کے ساتھ باکسر عابدہ بتول نے عالمی سطح پر گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔

August 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *