خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے ارکان اور ان کی ذمہ داریوں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ وفاقی وزرا نے فیصلے کی وجوہات بھی بیان کیں۔
صدر مملکت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سمری پر دستخط کردیے، گورنر بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو اس اقدام کی سفارش کرنے کی تجویز دی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو دس برس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 800 ارب روپے دیے گئے، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف وفاق کا ساتھ نہیں دے رہی۔
ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک اور نائب صوبیدار ہدایت امان شہید ہوگئے۔
ایک اور موقع ملنے کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی عدم تعاون کی پالیسی برقرار۔ وفاق کے خلاف سخت بیانیہ اپناتے ہوئے لانگ مارچ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق لائبہ اعجاز سے امریکی ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر 93 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ مقدمے میں دو افراد نامزد ہیں جبکہ ایک ملزم گرفتار کرلیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گورنر خیبر پختونخوا کا انتظامی کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق قبائلی اور جنوبی اضلاع کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔