افغانستان ہیومن رائٹس سینٹر نے اپنی حالیہ رپورٹ میں طالبان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم پر پابندی اور صحافیوں پر تشدد کے باعث ملک میں انسانی و معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے
قومی وسائل محدود ہونے کے باوجود حکومت نے وسیع مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ایوان صدر میں اہم اجلاس ہوا جس میں صدر مملکت، چاروں وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔
اس ادائیگی سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر عارضی دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم یہ اقدام مالی نظم و ضبط اور بیرونی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کے حوالے سے مثبت اشارہ بھی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر سرحدی کارروائی کے بعد شہری ہلاکتوں کے الزامات سامنے آنا ایک تسلسل بن چکا ہے، جبکہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا شواہد اکثر فراہم نہیں کیے جاتے۔
خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان اور چین کے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جسے خطے میں استحکام کیلئے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ پیکج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد کمزور طبقات کو تحفظ دینا، روزگار کو سہارا دینا اور معیشت کو متوازن رکھنا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کو اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تلقین کی ہے؛ بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا