آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

February 3, 2026

سکیورٹی اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق دستیاب ٹائم لائن، حملوں کے طریقۂ کار میں مماثلت، بی ایل اے کی جانب سے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے اعلان، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی علامتی تصاویر، اور اسی روز ایک بڑی بھارتی فلم کی ریلیز، یہ سب عناصر مل کر ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔

February 3, 2026

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے

February 3, 2026

پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے

February 3, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں نیشنل بینک پر 20-25 مسلح افراد کے حملے کو پولیس کی فوری کاروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے

February 3, 2026

پاکستان نے پہلا مقامی شفافیت و احتساب انڈیکس جاری کردیا، جس کے مطابق 68٪ شہری رشوت عام سمجھتے ہیں مگر صرف 27٪ نے تجربہ کیا اور 67٪ نے بدعنوانی کا سامنا نہیں کیا، جس سے تصور اور حقیقت میں واضح فرق ظاہر ہوا

February 3, 2026

عزیزی کا دورہ دہلی: طالبان کی معاشی پالیسی تضادات کا شکار

دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔
عزیزی کا دورہ دہلی: بھارت اور ایران کے درمیان کابل کی نازک توازن پالیسی ایک نئے امتحان سے گزر رہی ہے

اگرچہ بھارت کے ساتھ برادر کے پرانے روابط اور دہلی کے حق میں جھکاؤ پر ماہرین گفتگو کرتے رہے ہیں، مگر عملی طور پر بھارت کو افغانستان کے لیے وہ جغرافیائی سہولت حاصل نہیں جو پاکستان یا ایران کے پاس ہے۔

November 19, 2025

افغان وزیرِ صنعت و تجارت نورالدین عزیزی کا بھارت کا اہم دورہ، جس کا مقصد پاکستان سے ہٹ کر تجارتی راستوں کو ’’متنوع‘‘ بنانا اور دہلی کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانا ہے، بظاہر سفارتی اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کا سیاسی تاثر اس کی اصل معاشی حقیقتوں پر حاوی ہو چکا ہے۔ عزیزی، جو قندہاری پس منظر اور امارت کے معاشی حلقے میں خاص اثر رکھتے ہیں، ایک ایسے وقت میں دہلی پہنچے ہیں جب چند ہی ہفتے پہلے ملا عبدالغنی برادر نے پاکستان کے خلاف اب تک کا سخت ترین معاشی بیان دیتے ہوئے تاجروں کو حکم دیا کہ تجارت پاکستان سے ہٹا کر ایران، بھارت اور وسطی ایشیا کی طرف منتقل کی جائے۔ اس بیانیے نے کابل کی علاقائی اقتصادی سمت کا نیا خاکہ پیش کیا مگر عملی حقائق اس سے کہیں مختلف ہیں۔

عزیزی کا یہ دورہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب وہ 15 نومبر کو ایران کے صوبہ سیستان–بلوچستان میں ایران–افغانستان مشترکہ اقتصادی کمیشن میں بھی شریک ہوئے، جبکہ 11 نومبر کو طالبان کے مقرر کردہ گورنر فرح بھی ایران کے ساتھ تجارتی بات چیت کے لیے تہران جا چکے تھے۔ یہ سلسلہ ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط کا عکاس ہے—ایسے وقت میں جب ایران نے روس، چین اور خطے کے دیگر ممالک کو دسمبر میں ایک اہم علاقائی اجلاس کے لیے مدعو کیا ہے تاکہ پاکستان–افغانستان بحران پر نیا فریم ورک تشکیل دیا جاسکے۔ عزیزی کا اسی وقت دہلی میں موجود ہونا ایک سفارتی مسابقت کا پہلو بھی پیدا کرتا ہے، جسے کابل نظرانداز نہیں کرسکتا۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کابل بظاہر بھارت کے ساتھ قربت بڑھا رہا ہے لیکن عملی طور پر تجارت کے لیے اسے ایران کے راستوں پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی نے روایتی راستوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

سیاسی دعوے اور معاشی حقیقتیں

اکتوبر, نومبر میں طورخم، چمن اور خرلاچی کی بندشوں نے سالانہ 1.8 بلین ڈالر کی تجارت کو منجمد کر دیا ہے۔ ہندوکش ٹریبیون نیٹ ورک کی معلومات کے مطابق 11 ہزار سے زائد کنٹینرز پاکستان–افغانستان بارڈر اور کراچی پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں، جن میں وسطی ایشیائی سامان بھی شامل ہے۔ درجنوں سبزی و پھل کے کنٹینرز خراب ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے راستے کا خرچ اوسطاً 1500 ڈالر فی کنٹینر ہے اور سفر 3–5 دن میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایران–چابہار راستہ 2000 ڈالر اور 10–15 دن، جبکہ شمالی راستے 3000 ڈالر اور 20–30 دن لیتے ہیں۔ یو اے ای کے ذریعے ری ایکسپورٹ لاگت 4000 ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ جاتی ہے۔

کابل کی ’’تنوع‘‘ والی پالیسی میں جوش تو ہے مگر حساب کتاب کہتا ہے کہ اس کا بوجھ افغان تاجروں پر ناقابلِ برداشت ہے۔ سرحدی بندشوں کا سب سے بڑا نقصان بھی افغان عوام اور ملکی خزانے نے اٹھایا ہے—افغانستان کی تقریباً 70 فیصد کسٹم آمدن پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے آتی ہے، جو آخری سہ ماہی میں 25–30 فیصد تک گر چکی ہے۔

برادر کا سخت مؤقف اور زمینی حقیقت

ملا برادر کے 12 نومبر کے سخت بیانات نے پاکستان–افغانستان تعلقات میں نیا تناؤ پیدا کیا۔ اگرچہ بھارت کے ساتھ برادر کے پرانے روابط اور دہلی کے حق میں جھکاؤ پر ماہرین گفتگو کرتے رہے ہیں، مگر عملی طور پر بھارت کو افغانستان کے لیے وہ جغرافیائی سہولت حاصل نہیں جو پاکستان یا ایران کے پاس ہے۔ بھارت کی پیشکشیں جیسا کہ زرعی تحقیقاتی مرکز یا نرم قوت کے منصوبے—سیاسی طور پر موثر تو ہیں مگر زمینی تجارت کا متبادل نہیں۔

دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔

تجارتی حلقوں کا عملی نقطۂ نظر

پاک–افغان مشترکہ چیمبر کے خان جان الکوزئی کے مطابق

“کراچی اور طورخم ہی افغانوں کے لیے بہترین آپشن ہیں۔ تجارت چلنی وہیں ہے۔ اگر یہ بند رہیں تو پھر مجبوراً دوسرے راستے دیکھنے پڑیں گے۔”

افغان تجارتی حلقوں کا اندازہ ہے کہ ہر روز تقریباً دس لاکھ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ ادویات، خوراک، تعمیراتی سامان اور ایندھن جیسے بنیادی شعبوں میں متبادل راستوں کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ مکمل شفٹ معاشی طور پر ناممکن ہے۔

ایئر کوریڈورز صرف زعفران اور چلغوزے جیسے مہنگے و ہلکے وزن والے سامان کے لیے موزوں ہیں، اور پورے افغان تجارتی حجم کا صرف 1–3 فیصد برداشت کر سکتے ہیں۔

افغان عوام پر بوجھ

بازاروں میں قیمتیں 20 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ڈیزل امپورٹس میں 40 فیصد کی کمی آئی ہے۔ جلال آباد، قندہار اور خوست کے بازاروں میں دکاندار مہنگے نرخوں اور کمزور خریداری کے دباؤ میں پس رہے ہیں۔

پاکستان کی 400 ارب ڈالر سے زیادہ کی معیشت کے پاس بیس متبادل راستے ہیں۔ افغانستان کے پاس نہیں۔ یہی بنیادی فرق پورے بحران کا فیصلہ کن عنصر ہے۔

حقیقت اور وہم

بھارت کی جانب جھکاؤ کابل کو وقتی سفارتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن عملی طور پر تجارت پاکستان کے بغیر مکمل نہیں چل سکتی۔ بھارت اور ایران دونوں افغانستان کے لیے اہم ہیں، مگر کوئی بھی پاکستان کی جغرافیائی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔

طالبان قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ افغانستان نئی معاشی راہیں تراش سکتا ہے، مگر خود افغان تاجر سوال کرتے ہیں:
اگر بھارت ایک کلو افغان برآمدات پر ایک ڈالر چارج کرتا ہے اور بدلے میں افغان تاجر کو آدھا ڈالر بھی نہیں مل پاتا، تو یہ تجارت افغان معیشت کا بوجھ کیسے اٹھائے گی؟

افغانستان کا معاشی نقشہ نعرے نہیں بدل سکتے۔
پاکستان کچھ عرصہ افغان ٹرانزٹ کے بغیر رہ سکتا ہے
افغانستان پاکستان کے بغیر نہیں۔

اور دہلی کا یہ دورہ بھی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

دیکھیں: افغانستان کی اقوام متحدہ میں نمائندگی اور افغان طالبان کی عالمی حمایت سے محرومی

متعلقہ مضامین

آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

February 3, 2026

سکیورٹی اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق دستیاب ٹائم لائن، حملوں کے طریقۂ کار میں مماثلت، بی ایل اے کی جانب سے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے اعلان، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی علامتی تصاویر، اور اسی روز ایک بڑی بھارتی فلم کی ریلیز، یہ سب عناصر مل کر ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔

February 3, 2026

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے

February 3, 2026

پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے

February 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *