افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان فورسز اور جمعہ خان فاتح کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، جس کے بعد پورے علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تازہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ہفتوں سے افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں اور مزاحمتی حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ضلع درواز کے گاؤں قوغز میں اس وقت لڑائی چھڑ گئی جب طالبان اہلکاروں نے مصطفیٰ نامی ایک مقامی شہری پر فائرنگ کی۔ اس واقعے کے بعد جمعہ خان فاتح کے حامیوں نے جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں طالبان کی خصوصی یونٹ کے دو اہلکار ہلاک اور چار شدید زخمی ہو گئے۔ تمام ہلاک و زخمی افراد کو قریبی نوسی کلینک منتقل کر دیا گیا ہے۔
لڑائی کا دائرہ کار جلد ہی جمعہ خان فاتح کے آبائی علاقے کے قریب واقع رادوج اور زغرے کے دیہات تک پھیل گیا۔ اس کارروائی کے دوران جنگجوؤں نے طالبان کے چار غیر مقامی اہلکاروں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور کارروائیوں کے ردِعمل میں مخالف گروہوں کی سرگرمیاں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب صوبائی مرکز فیض آباد میں بھی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہو گئی، جہاں شام کے وقت بدخشاں کے صوبائی گورنر کی عمارت کو نشانہ بناتے ہوئے دو راکٹ فائر کیے گئے۔ ان میں سے ایک راکٹ گورنر ہاؤس کے قریب واقع ایک دوسری عمارت پر جا گرا۔ حملے کے فوراً بعد علاقے میں تقریباً 10 منٹ تک وقفے وقفے سے شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صوبہ بدخشان سمیت مختلف علاقوں میں طالبان انتظامیہ کو بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت کا سامنا ہے۔ سکیورٹی پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں کے باوجود، گزشتہ چند ہفتوں سے سامنے آنے والے پے در پے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان حکومت کے خلاف داخلی ناگواری اور مسلح کارروائیوں کی لہر میں تیزی آ رہی ہے۔
دیکھیے: بدخشاں: یونائیٹڈ فرنٹ کا طالبان پر حملے کا دعویٰ، 11 جنگجو ہلاک