افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان کے خلاف ایک بڑے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ کارروائی سابق افغان نیشنل آرمی کے معروف لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات کی قیادت میں کی گئی، جس میں 11 طالبان جنگجو ہلاک اور 3 کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔
افغان یونائیٹڈ فرنٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طالبان کی حکومت کے خلاف جاری وسیع تر مسلح اور سیاسی مزاحمتی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
جنرل سمیع سادات 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل افغان فوج کے اہم ترین کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے، جو اب طالبان مخالف تحرک کی قیادت کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ کار اب بدخشاں سمیت کم از کم 5 مختلف صوبوں تک پھیل چکا ہے، جہاں وقفے وقفے سے پرتشدد جھڑپیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔
بدخشاں کا سٹریٹجک صوبہ ماضی میں بھی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغان فریڈم فرنٹ جیسے مخالف گروہوں کی کارروائیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔
افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے اپنے حالیہ دعوے میں طالبان کو پہنچنے والے جانی نقصان اور جنگجوؤں کی گرفتاری کو اپنی تنظیم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔