اکوڑہ خٹک: جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں مجلس شوریٰ کے ہنگامی اجلاس کے دوران ادارے کو درپیش تاریخ کے سنگین ترین سیکورٹی خدشات اور فیکلٹی کو لاحق جانی خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ داعش خراسان اور افغان طالبان کے بدلتے ہوئے رویوں اور خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند گروہ جامعہ کے اساتذہ اور اہم فیکلٹی ممبران کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی حالیہ شہادت نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ عالمِ اسلام کے اس عظیم علمی مرکز کو دانستہ طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مسلسل حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اس ادارے کو بتدریج کمزور کرنے کی ایک منظم فضا پیدا کی جا رہی ہے۔
اراکینِ شوریٰ نے متفقہ اعلامیہ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ جامعہ حقانیہ اور خانوادہ حقانی پر پے درپے حملوں کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی مؤثر حفاظتی حکمت عملی یا عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا محمد ادریس شہید سمیت تمام سابقہ شہداء، بالخصوص مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔ ماہرین کے مطابق شدت پسند تنظیموں کی جانب سے فیکلٹی کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد تعلیمی و دینی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا اور ادارے کے اساتذہ میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
اجلاس کی صدارت جامعہ کے بزرگ اساتذہ شیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم دیر بابا جی اور مولانا مغفور اللہ بابا جی نے کی جبکہ مہتمم مولانا محمد انوار الحق نے ضعف کے باوجود شرکت کر کے اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ نائب مہتمم مولانا راشد الحق سمیع نے واضح کیا کہ حکومت اور متعلقہ سیکورٹی ادارے اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اور مستقل بنیادوں پر قابلِ اعتماد حفاظتی اقدامات کریں تاکہ یہ عظیم تعلیمی مرکز ہر قسم کی تخریبی سرگرمیوں سے محفوظ رہ سکے۔ اراکینِ شوریٰ نے موجودہ قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر جانی خطرات اور بیرونی دباؤ کے باوجود جامعہ حقانیہ کا علمی مشن پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
دیکھئیے:عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کو ظالموں نے شہید کر دیا