"> جامعہ حقانیہ پر خطرہ منڈلانے لگا: داعش اور افغان طالبان کے بدلتے رویوں کے باعث جامعہ حقانیہ کی فیکلٹی کو جانی خطرات لاحق - HTN Urdu جامعہ حقانیہ پر خطرہ منڈلانے لگا: داعش اور افغان طالبان کے بدلتے رویوں کے باعث جامعہ حقانیہ کی فیکلٹی کو جانی خطرات لاحق
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جامعہ حقانیہ پر خطرہ منڈلانے لگا: داعش اور افغان طالبان کے بدلتے رویوں کے باعث جامعہ حقانیہ کی فیکلٹی کو جانی خطرات لاحق

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا محمد ادریس شہید سمیت تمام سابقہ شہداء، بالخصوص مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔
جامعہ حقانیہ

اراکینِ شوریٰ نے متفقہ اعلامیہ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ جامعہ حقانیہ اور خانوادہ حقانی پر پے درپے حملوں کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی مؤثر حفاظتی حکمت عملی یا عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔

May 13, 2026

اکوڑہ خٹک: جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں مجلس شوریٰ کے ہنگامی اجلاس کے دوران ادارے کو درپیش تاریخ کے سنگین ترین سیکورٹی خدشات اور فیکلٹی کو لاحق جانی خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ داعش خراسان اور افغان طالبان کے بدلتے ہوئے رویوں اور خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند گروہ جامعہ کے اساتذہ اور اہم فیکلٹی ممبران کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی حالیہ شہادت نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ عالمِ اسلام کے اس عظیم علمی مرکز کو دانستہ طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مسلسل حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اس ادارے کو بتدریج کمزور کرنے کی ایک منظم فضا پیدا کی جا رہی ہے۔

اراکینِ شوریٰ نے متفقہ اعلامیہ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ جامعہ حقانیہ اور خانوادہ حقانی پر پے درپے حملوں کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی مؤثر حفاظتی حکمت عملی یا عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا محمد ادریس شہید سمیت تمام سابقہ شہداء، بالخصوص مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔ ماہرین کے مطابق شدت پسند تنظیموں کی جانب سے فیکلٹی کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد تعلیمی و دینی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا اور ادارے کے اساتذہ میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

اجلاس کی صدارت جامعہ کے بزرگ اساتذہ شیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم دیر بابا جی اور مولانا مغفور اللہ بابا جی نے کی جبکہ مہتمم مولانا محمد انوار الحق نے ضعف کے باوجود شرکت کر کے اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ نائب مہتمم مولانا راشد الحق سمیع نے واضح کیا کہ حکومت اور متعلقہ سیکورٹی ادارے اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اور مستقل بنیادوں پر قابلِ اعتماد حفاظتی اقدامات کریں تاکہ یہ عظیم تعلیمی مرکز ہر قسم کی تخریبی سرگرمیوں سے محفوظ رہ سکے۔ اراکینِ شوریٰ نے موجودہ قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر جانی خطرات اور بیرونی دباؤ کے باوجود جامعہ حقانیہ کا علمی مشن پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

دیکھئیے:عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کو ظالموں نے شہید کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *