سکیورٹی فورسز نے ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہے، جس کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چار خطرناک دہشت گرد مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن 4 اپریل کو انتہائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کا مقصد علاقے کو دہشت گردی سے پاک محفوظ رکھنا تھا۔
افغان شہری؟
سکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے چار دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت ‘عزت اللہ عرف قاری عزیر’ کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ قاری عزیر کا تعلق افغانستان کے صوبہ ‘لوگر’ سے تھا، جو سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے داخل ہوا تھا۔ بقیہ تین دہشت گردوں کی شناخت کے لیے عمل جاری ہے تاکہ ان کے نیٹ ورکس اور پس منظر کا پتا لگایا جا سکے۔
بیرونی مداخلت کے شواہد
دہشت گردوں میں افغان شہری کی موجودگی ایک بار پھر ان خدشات کو تقویت دیتی ہے کہ کالعدم تنظیمیں پڑوسی ملک کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ہونے والا یہ کامیاب آپریشن دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہوگی۔
سکیورٹی فورسز کا عزم
آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس کی کاروائی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ کسی بھی دوسرے شرپسند کی موجودگی کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وطنِ عزیز کی سرحدوں کا دفاع اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے اور شرپسند عناصر کو کسی بھی صورت سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دیکھیے: کابل حملے میں شہری مرکز کو نہیں ڈرون فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے متضاد دعوے مسترد کر دئیے