لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

!کوئلے کا دلال

بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والا دھماکا ایسے کئی دلالوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو دشمن کی لگائی آگ میں اپنے گھر کی لکڑی جھونک رہے ہیں۔
!کوئلے کا دلال

کیا کبھی اتنی ہی بڑی تعداد میں بلوچستان کے اضلاع، مثلاً آواران، قلات یا نوشکی سے آنے والے مزدور انہی شہروں میں نظر آتے ہیں؟ یہ سوال پوچھنا جرم نہیں، مگر اس کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ حقائق سے تلاش کرنا ضروری ہے۔

July 31, 2026

ضرب المثل محاوروں میں سے ایک محاورہ ہے کوئلے کی دلالی میں منہ کالا یہاں دلال کا کردار بہت اہم ہے ۔۔ جب بات ہو ہی دلالی کی رہی ہے تو کیوں نہ یہ سمجھا جائے کہ دلالی عرفِ عام میں ایک انتہائی نامناسب لفظ ہے۔۔ غالباً ہر شخص ہی اس لفظ سے واقف ہوگا ۔۔

البتہ یہ جاننا ضروری ہے کہ لفظ دلال برا نہیں ۔۔ اس میں بسنے والے کردار اچھے یا برے ہیں ۔۔

مثال کے طور پر یہ تجارت ، ثالثی یا کمیشن کے طور جانا اور سمجھا جاتا ہے ۔۔ کچھ لوگ اس لفظ کا ’’ٹیگ‘‘نہ لگانے کے لیے خود کو بروکر یا ایجنٹ کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔

لیکن چند لوگوں کے کاندھے پر پڑا رومال ہی ان کے کردار کو اشکار کر رہا ہوتا ہے ۔۔

بہرحال ! آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ بُرے دلال کون ہوتے ہیں ۔۔

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پیسوں یا اپنے مفاد کے عوض عزت کا سودا کرتے ہیں ۔۔ یہ لوگ کچھ بھی بیچ ڈالتے ہیں ۔۔ حتیٰ کہ اپنوں کو بھی ۔۔ اُن کی جان ، مال ، عزت ، آبرو سب بیچ ڈالتے ہیں ۔۔

بارارِ حسن سے لے کر دہشتگردی کے بازار تک ، ایسے دلال جگہ جگہ موجود ہیں ۔۔

ایسے دلالوں سے متعلق کچھ دلائل بلوچستان میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔

بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والا دھماکا ایسے کئی دلالوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو دشمن کی لگائی آگ میں اپنے گھر کی لکڑی جھونک رہے ہیں ۔۔

وہاں مرنے والوں میں یا تو پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدور ہیں یا پھر پشتون قوم کے لوگ، وادی سوات کے علاقے شانگلہ کے ایک گاؤں میں تو کہرام مچا ہے ، کیونکہ اس گاؤں کے 28 افراد شامل تھے ، سب کے سب پشتون تھے۔۔

قارئین کرام! بلوچستان میں کم و بیش کوئلے کی 2600 کانیں موجود ہیں ۔۔ جہاں

یہ کانیں زیادہ تر کوئٹہ ، ہرنائی ، دکی اور کچھی کے اضلاع میں قائم ہیں ۔۔ جن میں لگ بھگ 60 ہزار افراد کام کرتے ہیں ۔۔

کوئلہ کانوں میں کمیونیکیشن کا جدید انتظام کی جگہ گھنٹی کا پرانا نظام موجود ہے۔۔ یہ گھنٹی کان کے باہر لگی ہوتی ہے اور کان کے اندر ایک تار یا رسی سے جڑی ہوتی ہے۔۔ اس تار کو گہرائی سے ہلا کر اوپر پیغام بھیجا جاتا ہے۔۔ یہ اس صورت میں ہوتا ہے اگر کسی حادثے کا علم ہوجائے ۔۔

لیکن جب دہشتگردی اور منصوبے کے تحت مائنز میں دھماکا ہوجائے تو نکلنے کا بھی موقع کیسے ملے؟

ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی زمین میں بہت خزانہ ہے ، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ چند اپنوں کے لبوں پر ہی دشمن کا ترانہ ہے۔۔

بلوچستان میں دور دراز علاقوں سے آنے والے پنجاب ، سندھ اور خیبرپختونخوا کے لوگ ہی کیوں نشانہ بنائے جاتے ہیں ۔۔

کبھی شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں قتل کردیا جاتا ہے تو کبھی کوئلے کی کان میں دھماکوں کی نذر کردیا جاتا ہے ۔۔

یہ وہ لوگ ہیں جو روزگار کی تلاش میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں، کیونکہ خالی پیٹ نہ جغرافیہ دیکھتا ہے، نہ موسم اور نہ ہی زبان۔۔

لیکن ایک سوال اکثر ذہن میں ضرور ابھرتا ہے۔

کیا کبھی اتنی ہی بڑی تعداد میں بلوچستان کے شورش زدہ اضلاع، مثلاً آواران، قلات یا نوشکی سے آنے والے مزدور انہی شہروں میں نظر آتے ہیں؟

یہ سوال پوچھنا جرم نہیں، مگر اس کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ حقائق سے تلاش کرنا ضروری ہے۔۔

ایک پرانی کہاوت ہے : ’’دھواں وہاں سے اٹھتا ہے جہاں آگ ہو‘‘ ، لیکن کبھی کبھی دھواں مصنوعی بھی پیدا کر دیا جاتا ہے۔۔

بلوچستان کے بارے میں برسوں سے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ وہاں ہر طرف صرف غربت، محرومی اور بے روزگاری کا راج ہے۔

اگر واقعی صورت حال ہر جگہ اور ہر طبقے کے لیے یکساں ہوتی، تو پھر فطری طور پر بڑے پیمانے پر اندرونی ہجرت بھی نظر آنی چاہیے تھی، کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا معاشی اصول یہی ہے کہ روزگار انسان کو اپنے گھر سے دور لے جاتا ہے۔۔

دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ خود بلوچستان میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کان کنی، تعمیرات، تجارت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔۔

اس سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر شعبے میں مقامی افرادی قوت وافر مقدار میں دستیاب ہوتی تو بیرونی مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد وہاں کیوں کام کر رہی ہے؟

اسی طرح کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات پر نظر ڈالیں تو متاثرین میں اکثر کان کن خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مشاہدے سے بھی سوال جنم لیتا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں مقامی اور غیر مقامی مزدوروں کا تناسب کیا ہے، اور اس کے پیچھے معاشی یا سماجی عوامل کیا ہیں؟ اس کا جواب اعداد و شمار سے تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ نعروں سے۔۔

اصل سوال شاید غربت سے بھی بڑا ہے۔۔

کیا ہم بلوچستان کو صرف نعروں کی عینک سے دیکھ رہے ہیں؟

اگر ہر مسئلے کا جواب صرف “محرومی”ہے تو پھر سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے؟

اگر ہر شخص بے روزگار ہے تو مقامی معیشت کیسے چل رہی ہے؟

اگر ہر نوجوان مایوس ہے تو پھر مختلف معاشی سرگرمیوں میں مقامی آبادی کا کردار کیا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر تحقیق ہونی چاہیے، کیونکہ آدھا سچ اکثر پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔۔

ایک ذمہ دار معاشرہ سوال پوچھنے سے نہیں ڈرتا، لیکن جواب بھی ثبوت کے ساتھ مانگتا ہے۔۔

آخر میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ تعصب کا چشمہ پہن کر نہ غربت نظر آتی ہے اور نہ خوشحالی، صرف وہی دکھائی دیتا ہے جسے ہم پہلے سے سچ مان چکے ہوتے ہیں۔۔

کوئلے کا دلال اپنے لباس سے جتنا مرضی کالا ہوجائے ۔۔ لیکن غیرت کا دلال اس کالک سے پورے معاشرے کو سیاہ کردیتا ہے ۔۔

تعصب کا چشمہ اتار کر سوچنا ہوگا!

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *