جنوبی ایشیا میں خود کو علاقائی طاقت سمجھنے والے بھارت کو مسلسل سفارتی خفت کا سامنا ہے۔ پہلے نیپال نے بھارت کی من مانیاں ماننے سے صاف انکار کیا اور اب بنگلہ دیش نے بھی نئی دہلی کی سفارتی بالادستی کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔
بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی تعلقات اور رابطوں کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے معاملے سے جوڑ دیا ہے۔ ڈھاکہ نے واضح کیا ہے کہ بھارتی حکومت کو پہلے ایسا سازگار ماحول بنانا ہوگا جس میں حسینہ واجد کی فوری حوالگی ممکن ہو سکے۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ترجمان شاہد کریم نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کے بھارت کے ممکنہ دورے سے پہلے نئی دہلی کو شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی پر پیش رفت کرنا ہوگی، ورنہ دورہ ممکن نہیں ہوگا۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں عوامی غیض و غضب کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ 2025 میں بنگلہ دیشی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم پر انہیں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی، تاہم بھارت انہیں پناہ دیے ہوئے ہے جس پر دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ ہے۔
ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے تناظر میں یہ مطالبہ بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نیپال کے بعد بنگلہ دیش کے اس سخت موقف نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں بھارت کا جابرانہ اثر و رسوخ اب دم توڑ چکا ہے۔
دیکھیے: خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کو شدید دھچکا، نیپالی وزیراعظم کا دورۂ دہلی سے انکار