بنوں اور لکی مروت میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال کے باعث صوبائی محکمہ داخلہ نے وفاق سے اضافی ایف سی نفری طلب کرلی۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے وفاق کو ارسال کیے گئے مراسلے میں لکی مروت کیلئے 4 جبکہ بنوں کیلئے 5 ایف سی پلاٹونز کی فوری تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔
سرکاری مراسلے کے مطابق دونوں اضلاع میں سکیورٹی خطرات، فائرنگ کے واقعات، سرکاری نقل و حرکت میں رکاوٹوں اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے پیش نظر اضافی فورس درکار ہے۔
ایف سی کی اضافی نفری ضلعی جیل، جوڈیشل کمپلیکس، ڈپٹی کمشنر آفس، ہائی کورٹ بینچ اور گرڈ اسٹیشن سمیت اہم سرکاری تنصیبات پر تعینات کیے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔
امن و امان کی ذمہ داری؟
بنوں اور لکی مروت جیسے حساس اضلاع میں سکیورٹی صورتحال پر سوالات کے ساتھ صوبائی حکومت کی ترجیحات بھی زیر بحث ہیں۔ ایک طرف سرکاری ادارے اضافی نفری کیلئے وفاق سے مدد طلب کر رہے ہیں، دوسری جانب صوبے میں سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
خصوصاً پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ جب بعض اضلاع میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے اضافی فورس درکار ہے تو سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟
حکومت کو ایک طرف دہشتگردی اور سییورٹی خطرات سے نمٹنے کیلئے اضافی وسائل درکار ہیں، جبکہ دوسری طرف سیاسی سرگرمیوں اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری رہنے سے انتظامی توجہ اور وسائل کی تقسیم پر بحث پیدا ہو رہی ہے۔
دیکھیے: باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں سہولیات کا فقدان: پی ٹی آئی حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت