اسلام آباد: مغربی میڈیا کی جانب سے ماہ رنگ بلوچ کو نمایاں کوریج دینے پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں، جہاں تجزیہ کاروں نے اسے حقائق کے برعکس یکطرفہ بیانیہ قرار دیا ہے جو بلوچستان میں دہشتگردی کی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک بین الاقوامی اخبار کی رپورٹ میں ماہ رنگ بلوچ کو ایک متاثرہ آواز کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم اس میں دہشتگردی کے پس منظر اور زمینی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کے خاندانی پس منظر اور سیاسی وابستگیوں کا جائزہ لیا جائے تو اس کے روابط ایسے عناصر سے جڑے نظر آتے ہیں جو کالعدم تنظیم بی ایل اے سے وابستہ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کے والد عبدالغفار لنگو کو ماضی میں بی ایل اے سے منسلک کمانڈر قرار دیا گیا، جو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بظاہر پرامن سرگرمیوں کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم اس کے احتجاجی بیانیے اور سرگرمیاں اکثر ایسے عناصر کو تقویت دیتی ہیں جو ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
مزید یہ کہ مبصرین کے مطابق بی وائی سی کی جانب سے بی ایل اے کے خودکش ونگ “مجید بریگیڈ” کی واضح مذمت نہ کرنا ایک سنجیدہ سوال ہے، جبکہ بعض مواقع پر خودکش حملہ آوروں کو مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بی وائی سی محض ایک سماجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک ایسے بیانیے کو فروغ دے رہی ہے جو شدت پسندی کیلئے نرم فضا پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانیے نوجوانوں میں انتہاپسندی کو بڑھا سکتے ہیں اور دہشتگرد تنظیموں کیلئے نئی بھرتیوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔