...
ان کے والد عبدالغفار لنگو کو ماضی میں بی ایل اے سے منسلک کمانڈر قرار دیا گیا، جو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم ہے۔

April 1, 2026

مشرق وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھنا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور موجودہ بحران کا حل صرف دانشمندانہ فیصلوں اور عالمی یکجہتی میں ہے۔

April 1, 2026

پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایسے فورمز سے محتاط رہے جو علیحدگی پسند بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرے۔

April 1, 2026

عمران خان سیاسی قیدی نہیں بلکہ عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں۔ ان کی حراست عدالتی فیصلوں کا نتیجہ ہے، کسی حکومتی فیصلے کا نہیں۔

April 1, 2026

بھارتی ادارے حقائق سامنے آنے کے بعد خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ردعمل میں کہا گیا: رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد اب خود کو متاثرہ فریق ظاہر کیا جا رہا ہے

April 1, 2026

وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ‘رہائی فورس’ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا اور واضح کیا کہ ہجوم کی سیاست کے ذریعے ریاستی رِٹ چیلنج نہیں کی جا سکتی

April 1, 2026

بی ایل اے سے بی وائی سی تک روابط کا انکشاف، ماہ رنگ بلوچ کی کوریج پر سوالات:مغربی میڈیا تنقید کی زد میں

ان کے والد عبدالغفار لنگو کو ماضی میں بی ایل اے سے منسلک کمانڈر قرار دیا گیا، جو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم ہے۔
ماہرنگ بلوچ کے لئے مغربی بیانیہ تنقید کی زد میں

April 1, 2026

اسلام آباد: مغربی میڈیا کی جانب سے ماہ رنگ بلوچ کو نمایاں کوریج دینے پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں، جہاں تجزیہ کاروں نے اسے حقائق کے برعکس یکطرفہ بیانیہ قرار دیا ہے جو بلوچستان میں دہشتگردی کی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک بین الاقوامی اخبار کی رپورٹ میں ماہ رنگ بلوچ کو ایک متاثرہ آواز کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم اس میں دہشتگردی کے پس منظر اور زمینی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کے خاندانی پس منظر اور سیاسی وابستگیوں کا جائزہ لیا جائے تو اس کے روابط ایسے عناصر سے جڑے نظر آتے ہیں جو کالعدم تنظیم بی ایل اے سے وابستہ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان کے والد عبدالغفار لنگو کو ماضی میں بی ایل اے سے منسلک کمانڈر قرار دیا گیا، جو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بظاہر پرامن سرگرمیوں کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم اس کے احتجاجی بیانیے اور سرگرمیاں اکثر ایسے عناصر کو تقویت دیتی ہیں جو ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

مزید یہ کہ مبصرین کے مطابق بی وائی سی کی جانب سے بی ایل اے کے خودکش ونگ “مجید بریگیڈ” کی واضح مذمت نہ کرنا ایک سنجیدہ سوال ہے، جبکہ بعض مواقع پر خودکش حملہ آوروں کو مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بی وائی سی محض ایک سماجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک ایسے بیانیے کو فروغ دے رہی ہے جو شدت پسندی کیلئے نرم فضا پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانیے نوجوانوں میں انتہاپسندی کو بڑھا سکتے ہیں اور دہشتگرد تنظیموں کیلئے نئی بھرتیوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

دیکھئیے:جنیوا کانفرنس میں پاکستان پر بلوچستان کے حوالے سے الزامات: بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے، اسلام آباد کا سخت رد عمل

متعلقہ مضامین

مشرق وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھنا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور موجودہ بحران کا حل صرف دانشمندانہ فیصلوں اور عالمی یکجہتی میں ہے۔

April 1, 2026

پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایسے فورمز سے محتاط رہے جو علیحدگی پسند بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرے۔

April 1, 2026

عمران خان سیاسی قیدی نہیں بلکہ عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں۔ ان کی حراست عدالتی فیصلوں کا نتیجہ ہے، کسی حکومتی فیصلے کا نہیں۔

April 1, 2026

بھارتی ادارے حقائق سامنے آنے کے بعد خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ردعمل میں کہا گیا: رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد اب خود کو متاثرہ فریق ظاہر کیا جا رہا ہے

April 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.