بلوچستان لبریشن فرنٹ نے گزشتہ رات بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حکومتی تنصیبات پر کم از کم 17 حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے “آپریشن بام” کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔
تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں ریاست پاکستان کے خلاف جاری طویل مزاحمت کے ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے اور حملے پنجگور، سوراب، کیچ اور خاران کے علاقوں میں کیے گئے، جن کا ہدف فوجی چیک پوسٹس، ٹیلی کمیونیکیشن نظام، اور انتظامی دفاتر تھے۔ مقامی ذرائع نے متاثرہ علاقوں میں رابطہ نظام میں شدید خلل کی تصدیق کی ہے۔
بلوچ لبریشن فرنٹ کے ترجمان گوہرام بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ “یہ مزاحمتی تحریک کا نیا مرحلہ ہے۔ آپریشن بام کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ بلوچ مزاحمت کار ایک وسیع جغرافیائی علاقے میں ہم آہنگ بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن کی مکمل تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، تاہم ان حملوں کا مقصد “فوجی اور مالی نقصانات” پہنچانا تھا۔
لورالائی میں 9 پنجابی مسافروں کا قتل
اس کے علاوہ، گزشتہ رات لورالائی اور موسیٰ خیل کے درمیانی علاقے میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے مسلح افراد نے روڈ بلاک قائم کر کے بس سے 9 پنجابی مسافروں کو اتار کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ نسلی بنیادوں پر کیا گیا حملہ تھا، جس کا مقصد بلوچستان میں فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی کو بڑھانا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور سرکاری ذرائع نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
حکومتی ردعمل
تاحال سرکاری سطح پر ان حملوں کے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے متاثرہ علاقوں میں موجودگی بڑھا دی ہے۔
بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے ان حملوں کا تسلسل ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے، اور ان کارروائیوں کے بعد اب دونوں تنظیموں کے خلاف کڑا آپریشن متوقع ہے۔