وائلڈ لائف ڈیرہ اسماعیل خان نے پہلی بار جدید جغرافیک انفارمیشن سسٹم کے تحت دریائے سندھ میں نایاب انڈس ڈولفن کا خصوصی سروے کیا ہے، جس کے مطابق چشمہ بیراج سے رمک تک کے علاقے میں 135 ڈولفنز کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
مقامی انچارج خان ملوک کے مطابق ڈولفن کی تعداد میں اضافہ خوش آئند پیش رفت ہے، جو مسلسل تحفظاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔
2001ء میں ان کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو کر تقریباً 1200 رہ گئی تھی، تاہم 2017ء تک یہ آبادی بڑھ کر 1800 ہوئی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 2025ء تک پاکستان میں انڈس ڈولفن کی مجموعی تعداد 2000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
سندھ ڈولفن، جسے مقامی طور پر ‘بھلن’ کہا جاتا ہے، میٹھے پانی میں رہنے والا انتہائی نایاب اور منفرد جانور ہے، اسے ‘اندھی ڈولفن’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دیکھنے کے بجائے آواز کی لہروں کے ذریعے اپنا راستہ اور شکار تلاش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ماضی میں یہ ڈولفن دریائے سندھ کے 3400 کلومیٹر طویل حصے میں پھیلی ہوئی تھی، مگر بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر کے باعث اس کا قدرتی مسکن اب صرف 690 کلومیٹر کے علاقے تک محدود ہو چکا ہے۔
موجودہ دور میں اس کی سب سے بڑی اور اہم آبادی گڈو بیراج سے سکھر بیراج کے درمیان پائی جاتی ہے۔
اس نایاب نسل کو انسان کے پیدا کیے گئے کئی سنگین خطرات کا سامنا ہے، ان خطرات کے پیشِ نظر گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان کے علاقے کو ‘انڈس ڈولفن گیم ریزرو’ قرار دیا گیا ہے، جہاں خصوصی نگرانی کی جاتی ہے اور نہروں میں پھنس جانے والی ڈولفنز کو ریسکیو ٹیموں کے ذریعے دوبارہ دریا کے محفوظ حصوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
دیکھیے: خیبر پختونخوا کے زرعی تحقیقاتی ادارے نے چاول کی نئی قسم تیار کر لی