برطانوی جریدے 'دی ٹیلی گراف' کی رپورٹ نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار کے دوران افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، 34 لاکھ شہریوں کے انخلا، خواتین پر پابندیوں اور انسانی بحران کی سنگین تصویر پیش کر دی ہے۔
طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب کے الزامات پر پاکستان نے واضح کیا ہے کہ تعلقات میں بہتری کے لیے افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی پر ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی ضروری ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی انٹرویو نے طالبان حکومت کے 5 سال بعد بھی افغانستان میں سیاسی عدم شمولیت، 20 سالہ عبوری نظام اور پابندیوں پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
شمالی وزیرستان کے ٹنڈی گاؤں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مارٹر گولے کی زد میں آ کر ٹی ٹی پی کا خطرناک خارجی دہشتگرد ابوبکر عرف سبین ہلاک ہو گیا۔
بی ایل اے کے حملوں میں مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ گروہ کسی عوامی مقصد یا سیاسی ایجنڈے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کو “سیاسی مزاحمت” کا رنگ دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔