خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
تخار کے ضلع چاہ آب میں سونے کی کان کنی کے خلاف مظاہروں پر طالبان کی جوابی کاروائی نے وسائل کے ناجائز کنٹرول، شہری حقوق کی پامالی اور طالبان کے حکمرانی کے غیر جمہوری طریقہ کار کو نمایاں کر دیا ہے
افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی شدید برفباری اور بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 61 افراد ہلاک اور 110 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نئے قانون کے تحت معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک ہی نوعیت کے جرم پر مختلف طبقات کے لیے مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ علما کو سب سے اعلیٰ طبقہ قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے کسی جرم کی صورت میں صرف نصیحت کافی سمجھی گئی ہے اور کسی سخت سزا کا اطلاق نہیں ہوگا۔
افغانستان میں غذائی بحران شدت اختیار کر گیا، ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے
جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
طالبان ترجمان ملا حمداللہ فطرت نے پاکستان پر تجارتی راستے بند کرنے اور مہاجرین کے معاملے پر غیرقانونی دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، اور حالیہ تنازعات کی ذمہ داری اسلام آباد پر ڈالی ہے