یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
برسوں سے پھیلائے گئے افغانستان کے "ناقابلِ شکست" ہونے کے تاثر کو اب زمینی حقائق نے بے نقاب کر دیا ہے۔ طاقت کے توازن کا محور اب محض نعروں میں نہیں بلکہ عملی فیصلوں میں منتقل ہو چکا ہے۔
اگر افغان حکومت نے مخلصانہ رویہ اختیار نہ کیا تو جنوبی ایشیا ایک نئی غیر اعلانیہ جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے اور پاکستان اس بار دفاع نہیں، فیصلہ کرنے کے موڈ میں ہے۔
اسی ہفتے پاکستان نے سرحدی راستے، بشمول ٹورخم اور چمن، بند کر دیے۔ یہ اقدام افغان فوج کے مبینہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور پختہ شدہ اشتعال کے ردِعمل میں کیا گیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان علاقے سے ملنے والی سہولتوں نے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو آسان بنایا ہے۔
پاکستان بارہا شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ موقف پیش کر چکا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہ افغان سرزمین سے منظم حملے کرتے ہیں۔ اگر کابل واقعی اپنی سرزمین پر کنٹرول رکھتا ہے، تو پھر ان گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں کیوں برقرار ہیں؟
زلمے خلیل زاد نے دوحہ معاہدے کے ذریعے افغانستان کو طالبان کے حوالے کیا۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے نہ صرف افغان حکومت کو کمزور کیا بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔
سلامتی کونسل کی 35ویں مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق داعش کے مراکز دراصل افغانستان کے صوبوں ننگرہار، کنڑ، نورستان اور کابل میں موجود ہیں، جہاں ان کے تقریباً دو ہزار جنگجو سرگرم ہیں۔
اس وقت بھارت کے پاس اگنی-5 میزائل موجود ہے جس کی رینج 7,000 سے 8,000 کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ بھارت اگنی-6 تیار کر رہا ہے، جس کی رینج 9,000 سے 16,000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔