یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
"پنجاب ہمارا حصہ کھا رہا ہے" کا نعرہ حقیقت کے سامنے دم توڑ دیتا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ صوبے کے مالیاتی وسائل کا اختیار صوبائی حکومت اور بالآخر سرداروں کے پاس ہے۔
پاکستان کی قربانیاں ایک ایسے بگڑے ہوئے عالمی نظام کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں دہشتگردی کو سیاسی بنایا جاتا ہے، اسلاموفوبیا کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور قبضوں کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔
یہ وقت بھی معنی خیز تھا کیونکہ ان بیانات سے قبل امریکہ کے سابق ایلچی زلمے خلیلزاد نے سوشل میڈیا پر یہ الزام لگایا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس کانفرنس کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں
صدر پزشکیان کا یہ دورہ ایران پاکستان تعلقات میں ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشی ترقی اور مشترکہ سیکیورٹی جیسے مفادات تاریخی کشیدگی اور جیوپولیٹیکل چیلنجز پر غالب آ رہے ہیں تو یہ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔