یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
چودہ سو برس پہلے شیرِ خدا علیؓ نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ طاقت صرف تلوار سے نہیں بلکہ کردار اور یقین سے پیدا ہوتی ہے، مسلم دنیا اگر اپنے اندر اتحاد، خود اعتمادی اور اصولوں پر استقامت پیدا کرے تو عالمی سیاست میں اس کی آوازیقینا زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
مجتبی خامنہ ای کا سپریم لیڈر بننا خطے کے لئے مفید ہے یا مضر یہ تو وقت کے ساتھ ہی پتہ چلے گا، طاقت کے کھیل میں فوری نتائج کم ہی نکلتے ہیں اور اکثر فیصلے وقت کی کسوٹی پر ہی اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہیں
آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن صرف ایک عالمی روایت نہیں بلکہ انسانیت کے اس بنیادی کردار کو سلام پیش کرنے کا دن ہے جس کے بغیر معاشرہ، تہذیب اور زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں
بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار تشویشناک حد تک مایوس کن ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 550 سے زائد فضائی حادثات اور 150 سے زائد پائلٹس کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی فضائیہ کا حفاظتی نظام ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے
بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے محرکات کو نظرانداز کرنا اور محض یک طرفہ بیانیے کو فروغ دینا خطے میں امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے مترادف ہے
ایران اسرائیل تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے راستوں کی تبدیلی دنیا کو ایک نئی معاشی بدحالی کی طرف دھکیل رہی ہے
بھارت اور اسرائیل کا حالیہ عسکری و سائبر اشتراک درحقیقت پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے، مگر پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کو محفوظ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر قسم کی ہائبرڈ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے
پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے
اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی کاروائیاں، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی، اور عالمی سکوت کے پس منظر میں پاکستان کا حقِ دفاع، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق مکمل طور پر جائز اور درست ہے