روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
ڈیورنڈ لائن پر افغان قیادت کے روایتی بیانیے میں بڑی دراڑ؛ انتہا پسندوں کی مخالفت کے باوجود دوستم، محمد محقق اور ہزارہ کمیونٹی نے سرحد کو عالمی حقیقت تسلیم کر لیا۔ کیا یہ خطے میں نئی حقیقت پسندی کا آغاز ہے؟
ڈیورنڈ لائن پر افغان سیاسی بیانیے میں بڑی تبدیلی؛ اہم افغان شخصیات اور محققین نے ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتے ہوئے 'پشتونستان' کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ماہرین کے مطابق خطے کا استحکام جذباتی نعروں کے بجائے جغرافیائی حقیقتوں اور سرحدی احترام میں پوشیدہ ہے۔
آج اقبالؒ کی روح کو تسکین ہو رہی ہوگی کہ جس پودے کی آبیاری انہوں نے اپنے فکر و فلسفے سے کی تھی، وہ اب ایک تناور درخت بن کر دنیا کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ نیا روپ اس بات کی نوید ہے کہ اب سورج طلوع ہو چکا ہے، اور اندھیرے اب مستقل طور پر چھٹنے والے ہیں۔
افغانستان میں 'امارات' کے نام پر قائم نظام شریعت کے بنیادی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے متصادم؛ نسلی بالادستی اور مذہبی جبریت نے افغان معاشرے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا۔
دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔
امریکی جریدے 'واشنگٹن ٹائمز' نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
فن اور ثقافت کی اوٹ میں ریاستی قوانین کی پامالی اور قومی حمیت سے انحراف ناقابلِ قبول ہے۔ عدالتی احکامات اور ضوابط کی پاسداری ہر ادارے کا قانونی و اخلاقی فریضہ ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی پامالی محض ایک تکنیکی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی بقا اور معیشت کے خلاف بھارت کی ایک سوچی سمجھی 'تزویراتی جنگ' ہے۔ بھارت کی اس آبی جارحیت اور 'واٹر بم' پالیسی نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے
پاکستان نے ان مذاکرات کی میزبانی ایسے وقت میں کی جب خطہ انتہائی پیچیدہ اور کٹھن حالات سے گزر رہا تھا، اور معمولی سی تزویراتی غلط فہمی کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی۔ اسلام آباد کی اس سنجیدہ سفارتی کوشش نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی رسائی کے باعث مخالف فریقین کو ایک میز پر لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے