Category: اداریہ

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے عالمی غذائی بحران اور کھاد و توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بانی رہنماء اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو قندھار سے گرفتار کر لیا گیا۔

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد میں ہوئی تو میں وہاں جا سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی میں بہت عمدہ کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

اس حادثے میں 8 مزدور جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ابتدائی مرحلے میں 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ بعد ازاں مسلسل تلاش اور کھدائی کے عمل کے دوران عبدالوہاب نامی مزدور کو 17 روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔

یہ شہر پہلے بھی بے شمار ’’ابراہیم‘‘ کھو چکا ہے اور شاید مزید کھو دے، کیونکہ یہاں انسانی جان کی قیمت ایک مین ہول کے ڈھکن سے بھی کم ہے۔

خیبرپختونخوا میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد 32 ہزار سے بڑھ کر 39,702 ہو گئی ہے جبکہ آئندہ سال 44 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ایکس کے فیچر کے ذریعے انکشاف ہوا کہ متعدد وہ اکاؤنٹس جو بلوچ شناخت کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلا رہے تھے، دراصل بھارت میں موجود افراد آپریٹ کر رہے تھے۔

انیس سو انچاس سے 2025 تک پھیلا یہ پورا منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ بھارت میں زمین کی ملکیت کا ڈھانچہ مذہبی لحاظ سے انتہائی غیرمتوازن ہے۔

بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کی سرخ لکیریں، اور افغانستان کا متبادل راستوں کی تلاش کرنا؛ یہ سب خطے کے اس نازک لمحے کو تشکیل دے رہے ہیں جس پر جغرافیہ اور عسکری اقدمات کے اثرات گہرے ہیں۔

دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔

جب تک جماعتی وفاداریاں، ذاتی مفادات اور مرکزی سیاست کا اثر پارلیمانی اصولوں سے بالاتر رہتا ہے، آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کا امکان دھندلا ہی رہے گا۔

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے برسوں میں پاکستان کی پوزیشن کا تعین کریں گےاور شاید پورے خطے کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے۔