بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔
بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔
پاکستان اور چین نے افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز اور ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب بچوں، بالخصوص بچیوں، کو تعلیم سے روکا جاتا ہے تو نہ صرف ان کا مستقبل تاریک ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ جہالت، غربت اور جرائم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں تعلیم کی کمی اور منشیات کے پھیلاؤ کے درمیان گہرا تعلق نظر آتا ہے، کیونکہ لاعلمی اور بے روزگاری ایسے مسائل کو جنم دیتی ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
اگر طالبان واقعی اسلامی نظام کے دعوے دار ہیں تو انہیں سب سے پہلے انصاف، تنوع اور انسانی وقار کو تسلیم کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ایسے قوانین کو اصلاح نہیں، ظلم کی دستاویز کے طور پر یاد رکھے گی۔
شائقینِ کرکٹ کے لیے بھی یہ صورتحال مایوس کن ہے۔ عالمی ایونٹس کھیل کے فروغ اور قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، مگر جب فیصلوں میں شفافیت اور انصاف نظر نہ آئے تو کھیل کی روح متاثر ہوتی ہے۔ کرکٹ صرف مقابلہ نہیں بلکہ اعتماد کا نام ہے، اور اس اعتماد کو مسلسل مجروح کرنا خود کھیل کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔
یہ سانحہ کراچی کی حکمرانی کی کمزوری، صوبائی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور لاپرواہی کو بے نقاب کرتا ہے۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، بدانتظامی، کرپشن اور ناقص حکمرانی کا شکار ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ شہر کے نظام کو درست کرنا ان کے بس کا کام نہیں رہا۔
آج واشنگٹن کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے سیاسی لچک، فوری سودے بازی اور مالی فائدہ ضروری ہو چکا ہے۔ امریکہ عالمی تعلقات کے اصولوں کو ازسرِنو تشکیل دے رہا ہے، جہاں ادارہ جاتی شراکت داری کے بجائے وقتی مفادات کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج صرف ایک عارضی تحریک ہیں یا مستقل سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کریں گے؟ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جبر ہمیشہ رد عمل کو جنم دیتا ہے، اور جب معیشت تباہ ہو، روزگار ختم ہو، اور انصاف کھو جائے، تو لوگ اپنے نظام کو بدلے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس اعتبار سے ایران میں جو صورتحال ابھر رہی ہے، وہ محض حکومت کے خلاف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کا مطالبہ ہے ایک رجیم چینج جو شاید دیر یا جلد حقیقت بنے۔
گزشتہ سال سیکیورٹی اداروں نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے، جن میں دہشت گردوں کو ناکارہ بنانے میں عوام اور ریاستی محکموں کا بھرپور کردار رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں 1,235 شہری و سیکیورٹی اہلکاروں نے شہادت کا درجہ پایا۔
دوحہ معاہدے پر حقیقی عملدرآمد کا تقاضا محض تقاریر یا بیانات نہیں بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کا خاتمہ، قیادت کی گرفتاری، تربیتی نیٹ ورکس کی بندش اور علاقائی انٹیلی جنس تعاون شامل ہے۔ جب تک یہ عملی اقدامات سامنے نہیں آتے، تب تک دوحہ معاہدے سے وابستگی کے دعوے سیاسی پیغام رسانی تو ہو سکتے ہیں، مؤثر پالیسی نہیں۔