روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ سے پاکستان کے دل کے قریب رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین معاشی مشکلات اور وفاقی سطح پر سخت بجٹ کے باوجود حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے یہاں کے عوام کو آٹا، بجلی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی اور اربوں روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔
یہ نیا بیانیہ خود نئی دہلی کے اپنے سرکاری دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ ایک طرف ہندوستان عالمی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ڈرونز، جدید ترین سینسرز، خاردار باڑ اور بائیومیٹرک اسکینرز پر مشتمل دنیا کا سب سے محفوظ سیکیورٹی نظام نصب ہے جہاں سے پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، لیکن دوسری طرف اپنی ہی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسی بچکانہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں
تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس ملک شوکت حیات، ڈائریکٹر یوتھ اینڈ کلچر محمد نعمت اللہ عباسی، ڈائریکٹر سپورٹس افتخار صادق، اور صدر آل آزاد کشمیر فٹ بال ایسوسی ایشن مرزا امتیاز سمیت محکمہ کے اعلیٰ افسران، کھلاڑیوں اور شائقینِ فٹ بال کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پرامن تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ ہی آگے بڑھنے کا واحد منطقی راستہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرے اور اس کے بجائے پاک بھارت مذاکرات اور سفارتی مشغولیت کی فعال حمایت کرے۔
ضلع کشتواڑ میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک استاد، مشکور احمد کو کالے قانون "یو اے پی اے" کے تحت گرفتار کیا گیا. پولیس نے ان پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ اس غیر قانونی گرفتاری کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
ان تقریبات میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بشمول اساتذہ، طلبہ، تاجروں، وکلا، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے سبز ہلالی پرچم اور پاک فوج کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جبکہ فضا ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’افواجِ پاکستان پائندہ باد‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اس عمل سے جموں و کشمیر کے عوام کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ حلقہ بندیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ بی جے پی کو انتخابی برتری حاصل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔