Category: سکیورٹی

تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

بلوچستان کے ضلع خاران کی وادی سراوان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کا ٹھکانہ کلیئر کروا لیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، تاہم ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دیں گے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ امریکی دورے نے پاکستان کے موقف کو تقویت دی اور بھارت کے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے کردار کو اجاگر کیا۔

فائرنگ کے تبادلے میں وطن عزیز کے 12 محافظ نے جام شہادت نوش کرگٗے جبکہ 4 سپاہی زخمی ہوٗے

چھ ستمبر کو آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ مہمند میں سرحد پار سے داخلے کی کوشش کرنے والے 14 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ بنوں ایف سی لائنز حملے میں شامل پانچ خودکش بمباروں میں سے تین افغان شہری تھے۔

یہ واقعہ جنوبی وزیرستان اپر میں سیکیورٹی فورسز پر گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے مہلک حملہ ہے۔

دہشت گرد نے بتایا کہ "میں نے پانچ سال طالبان کے ساتھ اور صرف پانچ دن فوج کے ساتھ گزارے مگر گواہی دیتا ہوں کہ فوج درست اور طالبان غلط ہیں،

بنوں کینٹ میں دودھ سپلائی کرنے والے فارم سے اغوا ہونے والے دو ملازمین کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی

سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کے نتیجے میں باجوڑ کے پانچ علاقوں کو پرُامن قرار دے دیا گیا

لوئر دیر میں سیکیورٹی اداروں کے مشترکہ آپریشن میں ٹی ٹی پی کے تین دہشت گرد ہلاک جبکہ دو سیکیورٹی اہلکار بھی جامِ شہادت نوش کرگئے

ترجمان کے مطابق، پاکستانی سکیورٹی فورسز پرعزم ہیں کہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور ملک کو اس ناسور سے نجات دلائی جائے گی۔

غیر معروف راستوں کے ذریعے افغانستان سے پاکستان آئے ہیں، 8 ہزار سے زائد دہشتگرد پشاور، ٹانک، ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت، سوات، شانگلہ اورضم اضلاع میں ہیں