مظفر آباد: آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ انتہائی مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ ہے، جسے کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایک خصوصی گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ مسلم کانفرنس کا بنیادی مؤقف آج بھی وہی ہے جو قیامِ پاکستان سے قبل تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
ایکشن کمیٹی اور بیرونی ایجنڈا
سردار عتیق احمد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے مطالبات جائز ہو سکتے ہیں لیکن ان کے لیے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی ابتدا ہی سے تصادم، افراتفری اور بدامنی کی طرف جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ مطالبات کی آڑ میں ریاستی اداروں کے خلاف گالم گلوچ اور مخصوص عناصر کا کردار سامنے آنا شروع ہوا، جس کے پیچھے بیرونی ایجنڈے کی جھلک نظر آئی۔ انہوں نے بچوں اور خواتین کو احتجاجی مقامات پر ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی بھی مذمت کی۔
سابق وزیراعظم نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جو کوئی بھی ریاستی اداروں یا افواجِ پاکستان میں بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرے، اس کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسے اقدامات کو غداری تصور کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے کردار نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر مضبوط کیا ہے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال
آئندہ سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے سردار عتیق نے اعلان کیا کہ مسلم کانفرنس متحدہ علما کونسل کے ساتھ انتخابی اتحاد کے تحت آزاد کشمیر کے تمام 45 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 27 جولائی کے عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 50 سے 65 فیصد تک رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسائل کا حل تصادم کے بجائے صرف جمہوری اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دیکھیے: راولاکوٹ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے ختم، رینجرز نے کنٹرول سنبھال لیا