نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کا چینی ہم منصب وانگ یی سے ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں پاکستان کے کلیدی کردار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر چینی وزیرِ خارجہ نے خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔
اسلام آباد معاہدہ
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران چینی وزیرِ خارجہ کو اسلام آباد معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، جس کے تحت ثالثی کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ و
انگ یی کو بتایا گیا کہ 3 خصوصی ورکنگ گروپس کو جوہری ہتھیاروں کے مسئلے، ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، نگرانی اور دیگر اہم تنازعات کے حل کا کام سونپا گیا ہے۔ ان ورکنگ گروپس کا بنیادی مقصد اگلے 60 دن کے اندر ایک حتمی اور جامع امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
پاک چین سکیورٹی فریم ورک
دونوں رہنماؤں نے سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے پہلے دور کے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے عالمی امن کے لیے چینی اقدامات کو سراہا، جس میں چینی صدر شی جن پنگ کی 4 نکاتی تجویز اور 5 نکاتی پاک چین امن فریم ورک شامل ہیں۔
گفتگو کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ‘پاک چین سیکیورٹی پارٹنرشپ’ کے قیام پر بھی مکمل اتفاق کیا گیا۔
دیکھیے: اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، چین کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ