خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی بحران، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات کے باوجود صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ سیاسی احتجاج اور دھرنوں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔
افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جہاں نورستان اور کنڑ سمیت مختلف صوبوں میں کارروائیوں اور جھڑپوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایک افغان شہری کے حالیہ دعوے نے بھارتی ایجنسی را، افغان طالبان اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ مالی و عسکری گٹھ جوڑ سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
افغان طالبان کے نائب حمداللہ فطرت نے ایچ ٹی این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کبھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ایک طرف تو یہ دعوی ہے جبکہ دوسری جانب ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیاں عروج پر ہیں