ملک میں آبادی کے دباؤ اور پیچیدہ حکومتی ڈھانچے کے باعث نئے صوبوں کے قیام کی بحث دوبارہ زندہ ہو گئی ہے۔ شہریوں اور طلبہ نے موجودہ انتظامی نظام کو عوام کے لیے غیر مؤثر قرار دیا ہے۔
ملک کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شہر وسیع ہو چکے ہیں۔ شہریوں کو معمولی دفتری امور کے لیے بھی صوبائی دارالحکومتوں کا طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ مسافتوں اور کاغذی کارروائی کے باعث عوام کا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے۔
سفارشی کلچر کا خاتمہ
موجودہ ڈھانچے میں عام شہری کا کام قانونی حق کے بجائے تعلقات اور سفارش پر منحصر ہو چکا ہے۔ شہریوں کو جائز کاموں کے لیے بھی سیاسی شخصیات اور بااثر افراد کے فون کروانے پڑتے ہیں۔ اس صورتحال نے اداروں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سیاسی مفادات اور رکاوٹیں
سماجی حلقوں کے مطابق نئے صوبے بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی مفادات ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے مخصوص سیاسی طبقات کا اجارہ دارانہ اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقہ انتظامی تبدیلیوں کی حمایت نہیں کرتا۔
انتظامی اصلاحات کی ناگزیریت
ملک کے نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا مقصد سیاسی طاقت کی تقسیم نہیں بلکہ خدمت کی دہلیز تک فراہمی ہے۔ انتظامی یونٹس بڑھانے سے اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے اور نظام خودکار طور پر بہتر کام کر سکے گا۔