اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں 15 دن تک بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں ایران سے بھی جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی تھی، جبکہ تمام فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوں تاکہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
یہ مسودہ بحرین کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی، تاہم روس اور چین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی قرارداد خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواز بن سکتی ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو متعدد ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔ 21 مارچ کو انہوں نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، بصورت دیگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔