چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے تمام تر اختلافات اور تنازعات کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کابل اور اسلام آباد کے درمیان خوشگوار تعلقات اور باہمی افہام و تفہیم نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
ثالثی کے لیے عملی اقدامات
ترجمان ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ چین دونوں فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے اور سفارتی فاصلوں کو کم کرنے کے لیے پہلے ہی سے فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بیجنگ کی جانب سے ثالثی کی یہ کوششیں دوطرفہ اعتماد کی بحالی کے لیے ہیں تاکہ سرحدی اور دیگر سیکیورٹی معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکے۔
تعمیری کردار کا عزم
چینی وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بیجنگ مستقبل میں بھی کابل اور اسلام آباد کے مابین تناؤ میں کمی لانے کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی یہ پیشکش خطے میں معاشی استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی سے جڑا ہوا ہے۔
دیکھیے: افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کی مالی معاونت کے لیے مقامی عمائدین پر دباؤ، گھر گھر جا کر فنڈز کی وصولی