اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) کا اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا جس کی صدارت سی ایس ٹی او کے سیکرٹری جنرل والیری سیمی ریکوو نے کی۔ گفتگو کا مرکز خراسان صوبہ (آئی ایس کے پی) سے بڑھتے ہوئے سرحدی خطرات کے پیش نظر تاجکستان-افغانستان سرحد پر سیکیورٹی کو بڑھانے پر تھا۔
سی ایس ٹی او نے افغانستان کے ساتھ 1,344 کلومیٹر طویل سرحد پر دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو پختہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان اقدامات کے تحت تنظیم 2029 تک اپنے سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے منصوبے کو جاری رکھے گی۔
آئندہ سال سے کے آغاز سے سی ایس ٹی او کمزور سرحدی علاقوں بشمول شمس الدین شوہن ضلع، کو اسلحہ اور سازوسامان کی فراہمی شروع کرے گی۔
افغانستان بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بنا ہوا ہے اور سی ایس ٹی او کے اجلاس میں خاص طور پر تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں آئی ایس کے پی کے خطرے کو حل کرنے پر بات کی گئی ہے۔ تنظیم نے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر علاقائی سلامتی و استحکام کو یقینی بنانے کے عزم کی تصدیق کی۔
دیکھیں: پاک افغان ازبکستان ریلوے منصوبہ اور خطے پر اس کے ممکنہ اثرات