تاریخ کے اوراق پر جب بھی نوآبادیات کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں توپیں، بحری جہاز اور فوجی لشکر ابھرتے ہیں۔ مگر جدید دنیا میں سلطنتیں اس انداز سے نہیں آتیں۔ وہ ایپس کی صورت میں اترتی ہیں، سہولت کے نام پر جگہ بناتی ہیں، اور پھر اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہیں۔
ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تلوار لے کر نہیں آئی تھی، وہ تجارت کے بہانے داخل ہوئی، انحصار پیدا کیا اور پھر اقتدار پر قابض ہو گئی۔ آج پاکستان ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قبضہ زمین پر نہیں بلکہ ذہن، ڈیٹا اور بیانیے پر ہو رہا ہے، مگر افسوس کی بات یہ کہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی بحث و مباحثہ تک دیکھنے میں نہیں آ رہا کجا کوئی سنجیدہ اقدام کئے جائیں۔
ڈیجیٹل ترقی یا ڈیجیٹل انحصار؟
پاکستان میں گیارہ کروڑ سے زائد انٹرنیٹ صارفین اور سات کروڑ سے زیادہ سوشل میڈیا یوزرز موجود ہیں۔ بظاہر یہ ایک کامیاب ڈیجیٹل انقلاب کی تصویر ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس انقلاب کی کنجی کس کے ہاتھ میں ہے؟
فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور یوٹیوب اب محض ایپس نہیں رہیں، یہ پاکستان کے سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں۔ کاروبار واٹس ایپ پر چل رہے ہیں، سیاست فیس بک پر بنتی بگڑتی ہے، اور عوامی رائے یوٹیوب کے الگورتھمز کے تابع ہو چکی ہے۔
یہ انضمام نہیں، انحصار ہے۔ اور انحصار ہمیشہ غلامی کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔
ہنر موجود، سمت غائب
پاکستانی جامعات سے ہر سال پچیس سے تیس ہزار نوجوان کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ یہ قوت پاکستان کی ڈیجیٹل خودمختاری کی بنیاد رکھنے کے لئے کافی تھی مگر اتنی بڑی تعداد کے باوجود پاکستان کے پاس میٹا کی مطابقت کا فقط ایک قومی سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک نہیں ہے، کوئی مقامی میسجنگ سسٹم نہیں، اور نہ ہی کوئی ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں پاکستانی اپنی شرائط پر اپنی بات کہہ سکیں۔
پاکستانی نوجوان دوسروں کے لئے کوڈ لکھنے اور اسے رن کرنے میں مصروف ہیں۔ غیر ملکی ادارے پاکستانی ذہنوں کا استعمال کرتے ہوئے ایسے پروگرامز بنوا رہے ہیں جو نہایت کارآمد ہیں۔
پاکستانی بچے عالمی کمپنیوں کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں، مگران کا دھیان کبھی اپنی ڈیجیٹل معیشت کو تعمیر کرنے کی طرف گیا ہی نہیں، کیونکہ مسئلہ وسائل سے زیادہ وژن کا ہے
ہماری جامعات نے ہاتھوں کو ہنرتو دے دیا، مگر ذہن کو مقصد دینے میں ناکام ہو گئیں
ڈیٹا کی لوٹ مار: جدید نوآبادیات
آج کے دور میں سب سے قیمتی سرمایہ زمین، جائیداد یا سونا نہیں بلکہ ڈیٹا ہے۔
پاکستان کے کروڑوں صارفین روزانہ جو کچھ دیکھتے، سوچتے اور کرتے ہیں، وہ سب ایک ڈیجیٹل خام مال بن کر بیرونِ ملک منتقل ہو رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔
یہ ڈیٹا وہاں محفوظ ہوتا ہے، وہیں اس پر تجزیہ کیا جاتا ہے، اور وہہی اس سے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔ صارف یہاں پیدا ہوتا اور اس سے مستفید امریکا، یورپ اور چین ہوتے ہیں۔ پاکستانی صارف ترقی یافتہ مماالک کے لئے ایک پراڈکٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے
یہ وہی نوآبادیاتی ماڈل ہے، صرف شکل بدل گئی ہے۔
غزہ، ایران اور خاموش سکرینیں
غزہ کی جنگ نے ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ وہ پلیٹ فارمز جنہیں ہم غیر جانبدار سمجھتے تھے، دراصل طاقت کے تابع ہیں۔ فلسطین کے حق میں آوازیں دبائی گئیں، اکاؤنٹس کو محدود کیا گیا، اور مواد کو غائب کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے واضح طور پر نشاندہی کی کہ فلسطین کے حق میں آوازوں کو دبایا گیا، یہی معاملہ ایران کے حوالے سے بھی سامنے آیا ، جہاں اسرائیل کے بیانیے کو بڑھایا گیا اور ایران کو محدود کیا گیا۔
یہ محض ٹیکنیکل فیصلے نہیں بلکہ سوچے سمجھے سیاسی فیصلے ہیں، جن کی بدولت حقیقت کو ایک خاص طریقے سے ترتیب دیا جاتا ہے۔اور یہاں سب سے اہم اور پریشان کن سوال جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا کہ اگر کل یہی سلوک پاکستان کے ساتھ ہوا تو؟
اگر ہماری آواز دبا دی جائے تو ہم اپنی کہانی کہاں سنائیں گے؟
کس پلیٹ فارم پر؟ کس فورم پر؟ کس زبان میں؟
آج کی دنیا میں جو بیانیہ کنٹرول کرتا ہے، جنگ بھی وہی جیتتا ہے۔
فلٹر شدہ حقیقت کا خطرہ
پاکستان آج معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر رہا، بلکہ ایک فلٹر شدہ دنیا میں سانس لے رہا ہے۔
ہمیں وہی دکھایا جا رہا ہے جو دکھانا مقصود ہے، وہی سنایا جا رہا ہے جو سنانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
رائے عامہ اب ایک فطری عمل نہیں رہی، یہ ایک انجینئرڈ پراسس بن چکی ہے۔ رائے عامہ اب خود نہیں بنتی، بنائی جاتی ہے۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پورے نظام پر نہ کوئی سنجیدہ قومی مکالمہ ہے، نہ ہی کوئی واضح حکمت عملی، اور یہی خاموشی سب سے بڑا المیہ ہے۔
تعلیمی بحران یا فکری زوال؟
یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، یہ ذہنوں کی ساخت کا مسئلہ ہے۔
ہماری جامعات پروگرامرز پیدا کر رہی ہیں، مگر معمار نہیں، ایک قوم جو دوسروں کے بنائے ہوئے نظاموں میں جگہ تلاش کرتی ہے، وہ کبھی اپنی جگہ نہیں بنا سکتی۔ ہماری جامعات میں یورپ کے قدم سے قدم ملانے کا درس دیا جاتا ہے، ان سے آگے بڑھنے کا تصور تو اساتذہ تک کے ذہنوں میں نہیں آتا، وہ فارمولہ بنا کر بھیج دیتے ہیں اور پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک عمر بھر ان فارمولوں کو رٹنے اور امپلیمنٹ کرنے میں گزار دیتے ہیں۔
تاریخ کا سبق، جو ہم نے نہیں سیکھا
یہ سب کچھ نیا نہیں، برصغیر میں بھی ابتدا میں سیاسی سرگرمیاں اسی نظام کے اندر ہو رہی تھیں جو انگریزوں نے بنایا تھا۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ وہ طاقت کا حصہ ہیں، مگر اصل طاقت کہیں اور تھی۔
آج ہم بھی اسی فریب میں مبتلا ہیں
ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہم ڈیجیٹل دنیا کا حصہ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کے مالک نہیں، صرف صارف ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا ہمارے تابع نہیں بلکہ ہم اسے کے تابع ہو چکے ہیں
اختتام: خاموشی کی قیمت
یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔
آج دنیا میں ستاون مسلم ممالک موجود ہیں، مگر جب بیانیہ دبایا جاتا ہے، اور آوازیں محدود کر دی جاتی ہیں، تو یہ سب ریاستیں بے بسی کی تصویر بن جاتی ہیں۔ پاکستان کو اپنے پلیٹ فارمز بنانے ہوں گے، اپنے ڈیٹا کو محفوظ کرنا ہو گا، سنجیدہ پالیسی بنانی ہو گی، اور سب سے بڑھ کر سوچ بدلنی ہو گی۔
آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے انتخاب کرنا ہے کہ
مالک بننا ہے یا ہمیشہ صارف رہنا ہے؟