خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع کرم کے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں طویل عرصے سے غیر فعال پارہ چنار ایئرپورٹ کو باقاعدہ طور پر دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ اس اہم تنصیب کی بحالی سے علاقے کا ملک کے دیگر حصوں سے فضائی رابطہ ایک بار پھر قائم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ کو آپریشنل بنانا پاک فوج، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی مشترکہ اور انتھک کوششوں کے سر ہے۔ ایئرپورٹ کی فعالیت اور تکنیکی صلاحیت کو جانچنے کے لیے 26 اپریل کو پاک آرمی ایوی ایشن کی جانب سے آپریشنل لینڈنگ اور ٹیک آف کے خصوصی ٹرائلز کیے گئے۔
ان ٹرائلز کے دوران پاک آرمی ایوی ایشن کے طیاروں نے مجموعی طور پر 6 مرتبہ کامیابی کے ساتھ لینڈنگ اور ٹیک آف کا عمل مکمل کیا۔ ماہرین کی ٹیم نے رن وے کی مضبوطی، لمبائی اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جس کے بعد ایئرپورٹ رن ویز کو پیشہ ورانہ معیار اور اعلیٰ عالمی سیفٹی اسٹینڈرڈز کے مطابق قرار دے دیا گیا۔
سکیورٹی اور دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارہ چنار ایئرپورٹ کی بحالی سے نہ صرف مقامی آبادی کو جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی، بلکہ ہنگامی حالات، قدرتی آفات اور امدادی سرگرمیوں کے دوران بھی یہ ایئرپورٹ کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس اقدام کو علاقے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور تجارتی رابطوں کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔