یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے پانچ سال کے وقفے کے بعد پاکستان سے متعلق منظور کی گئی قرارداد کو سیاسی ماہرین نے ایک رسمی عمل قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد پاکستان کی حقیقی تصویر پیش نہیں کرتی بلکہ یہ محض ایک علامتی سیاسی اقدام ہے۔
گزشتہ ہفتے منظور کی گئی اس قرارداد میں ہندو اور مسیحی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے مبینہ اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ قرارداد میں خبردار کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر نہ ہونے پر پاکستان کی جی ایس پی پلس اسٹیٹس خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ایلدار مامیڈوف کے مطابق قانونی طور پر یورپی پارلیمنٹ کے پاس جی ایس پی پلس کو ختم کرنے یا برقرار رکھنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ اختیار صرف یورپی کمیشن کے پاس ہے، جس کے باعث پارلیمنٹ کی اس قرارداد کی حیثیت قانونی طور پر لازمی نہیں بلکہ محض ایک سیاسی بیان کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسی قراردادیں ہنگامی مباحث کے تحت لائی جاتی ہیں جن کا انتخاب انسانی حقوق کی سنگینی کے بجائے سیاسی جماعتوں کے درمیان سودے بازی کے تحت ہوتا ہے۔ پاکستان کے معاملے میں مسیحی اقلیت کے موضوع کو یورپی دائیں بازو کی جماعتیں آگے بڑھاتی ہیں، جس سے یہ معاملہ نظریاتی سیاست کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔