اسلام آباد: حال ہی میں میڈیا کے بعض حلقوں میں یہ گمراہ کن دعوے سامنے آئے ہیں کہ ایک امریکی کمپنی کی جانب سے ایئرپورٹ سیکیورٹی کے لیے دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی ہے، جس میں حکومتی سطح پر غیر ضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔ حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ بیانیہ حقائق کے منافی اور ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔ اس گمراہ کن مہم کو بعض ایسے صحافیوں نے بھی ہوا دی ہے جن کی ساکھ مشکوک ہے، جبکہ بدقسمتی سے ایک معروف انگریزی روزنامے نے بھی اس من گھڑت کہانی کو بغیر تصدیق کے شائع کیا۔ تاہم، حقائق کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام کو اس گمراہ کن مہم سے بچایا جا سکے۔
شفافیت اور سرکاری ضوابط
ایئرپورٹ سیکیورٹی نظام کی تنصیب اور خریداری کا عمل کسی بھی ذاتی پسند یا اثر و رسوخ کے بغیر، معمول کے سرکاری ضابطے کے تحت جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی معاہدے کا اجرا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے تحت شفاف اور مسابقتی بولی کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔ اس عمل میں میرٹ، شفافیت اور لاگت کی افادیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی کمپنی یا فرد کو کوئی ترجیح نہیں دی جا رہی، بلکہ یہ معاہدہ مکمل شفاف مسابقت کے بعد سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کو دیا جائے گا۔
قومی سلامتی اور ڈیٹا کی خودمختاری
اس منصوبے کے حوالے سے حکومت کا سب سے اہم نکتہ قومی سلامتی اور ڈیٹا کی حفاظت ہے۔ معاہدے کی بنیادی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ پاکستان سے گزرنے والے تمام مسافروں کا ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ رہے گا اور اس پر حکومت پاکستان کا مکمل اور خودمختار کنٹرول ہوگا۔ حساس معلومات کی حفاظت اور قومی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے ان تمام دعوؤں کی بھی سختی سے تردید کی ہے کہ اس پیشکش کو امریکی حکومت کی کوئی توثیق یا حمایت حاصل ہے، کیونکہ سرکاری سطح پر ایسی کسی بھی حمایت کا کوئی وجود نہیں ہے۔
گمراہ کن مہم اور پسِ پردہ محرکات
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کی خطیر رقم کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی اصل لاگت اس سے کہیں کم ہے، جس کا حتمی تعین تکنیکی جانچ اور کھلی بولی کے بعد ہی ممکن ہو گا۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ من گھڑت بیانیہ مبینہ طور پر ریلائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیر بیگ کی جانب سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو سابق سینیٹر انور بیگ کے صاحبزادے ہیں۔ سمیر بیگ ماضی میں بھی نادرا کو ایک ناقص اور متنازعہ نظام فراہم کرنے کے حوالے سے متنازعہ رہے ہیں، اور یہ پس منظر ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
مالی مفادات اور میڈیا مہم
اس مہم کے ذریعے ایک منافع بخش سرمایہ کاری کا مصنوعی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے لیے مخصوص میڈیا افراد اور پیسوں کے عوض لکھے گئے مضامین کا سہارا لیا گیا ہے۔ یہ افراد اور ادارے چند ڈالر کے عوض کسی بھی قسم کی من گھڑت خبر پھیلانے کے لیے بدنام ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام دعوؤں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ پروپیگنڈا صرف اور صرف ذاتی مفادات کے حصول کے لیے کیا جا رہا ہے۔
عوام اور میڈیا کے لیے پیغام
حکومتی ذرائع نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے پروپیگنڈے اور مفاداتی مہم کا شکار نہ ہوں اور کسی بھی خبر کو پھیلانے سے پہلے حقائق کی تصدیق کریں۔ پاکستان کے ایئرپورٹ سیکیورٹی نظام کو اپ گریڈ کرنے کا عمل خالصتاً میرٹ اور قومی مفاد کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ تمام متعلقہ اداروں کو بھی اس بات کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی دانستہ گمراہ کن مہمات سے ہوشیار رہیں اور قومی سلامتی کے معاملات پر کسی بھی قسم کی غلط معلومات کو فروغ نہ دیں۔