مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتیار میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانیت سوز درندگی کا ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ‘آپریشن تراشی۔1’ کے نام پر تین کشمیری نوجوانوں کو حراست کے بعد جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔ بھارتی فوج نے شہید نوجوانوں کے اجسام کو مخصوص کیمیکلز کے ذریعے جلا دیا تاکہ ان کی شناخت مٹائی جا سکے اور انہیں “غیر ملکی جنگجو” ثابت کیا جا سکے۔
سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم کشمیریوں کو قتل کر کے ان کے اجسام کو مسخ کرنا بھارت کا معمول بن چکا ہے۔ بھارتی فوج اپنی ہر ناکامی اور جارحیت کو چھپانے کے لیے متاثرہ افراد کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے “پاکستانی” قرار دے دیتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ مقامی نوجوان تھے جنہیں سرچ آپریشن کے دوران اغواء کیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں جعلی مقابلوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جس کی دستاویزات اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے عالمی ادارے کئی بار مرتب کر چکے ہیں۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایک طرف بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر ایک ملین فوج، جدید نگرانی کے نظام اور ناقابلِ عبور باڑ کا دعویٰ کرتی ہے، اور دوسری طرف اپنی ہی ناکامی کا اشتہار دیتے ہوئے ہر واقعے کو دراندازی سے جوڑ دیتی ہے۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ کشتیار جیسے واقعات محض جعلی مقابلے ہیں جن کا مقصد کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو بدنام کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مقامی نوجوانوں کو “غیر ملکی ایجنٹ” قرار دینے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ بھارت گزشتہ 78 سالوں سے فوجی تسلط کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے میں ناکام رہا ہے۔ نوجوانوں کو اغواء کرنا، حراستی قتل اور پھر ان کے اجسام کی توہین کرنا بھارتی جمہوریت کے ماتھے پر وہ داغ ہے جسے دنیا اب دیکھ رہی ہے۔
عالمی اداروں اور حکام کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی یا جبر کے ذریعے امن نہیں لایا جا سکتا۔ واحد پائیدار راستہ یہ ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حق، ‘حقِ خودارادیت’ دیا جائے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں ایک شکست زدہ جنگ لڑ رہا ہے اور ایسے جنگی جرائم کشمیری عوام کے عزم کو مزید تقویت دیں گے۔