سابق افغان مشیر فضل فضلی نے پاکستان پر الزامات لگائے ہیں۔ چنانچہ فضل فضلی کے الزامات افغان طلبہ کی واپسی سے متعلق ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی کوشش کی۔
تاہم ان کے اس بیان کے بعد ان کا اپنا کردار سامنے آ گیا ہے۔ دراصل وہ اشرف غنی کے دور میں اہم عہدے پر فائز تھے۔ اس دوران ان پر اقربا پروری کے سنگین الزامات بھی لگتے رہے۔
اسکے علاوہ ان کے پاس سکیورٹی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ لیکن وہ پھر بھی اعلیٰ ریاستی فیصلوں میں براہ راست شریک رہے۔
سابق افغان حکومت کا ماضی
یاد رہے کہ انہوں نے افغان سیکیورٹی فورسز پر مکمل اعتماد ظاہر کیا تھا۔ پھر اگست 2021 میں امریکی انخلا کے وقت افغان فوج بکھر گئی۔ اس وجہ سے کابل کا کنٹرول فوراً طالبان کے پاس چلا گیا۔
لہٰذا افغان حکومت کی سیکیورٹی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ البتہ فضل فضلی کو پہلے اپنی ناکامیوں کا حساب دینا چاہیے۔ نتیجتاً ان کے موجودہ بیانات کو ماضی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
دیکھیے: فتنہ الخوارج کے جعلی حملوں کے دعوے، پراپیگنڈا مہم بے نقاب