امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں قطری وفد کے ہمراہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کی ہیں، جن میں خطےکی سکیورٹی، پائیدار امن اور سفارتی کوششوں کو حتمی شکل دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے فیلڈ مارشل کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ اس موقع پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
سکیورٹی اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت کا یہ دورہ ایسے اہم وقت میں ہو رہا ہے جب ایران امریکی جنگ بندی کی تجاویز پر اپنا حتمی ردِعمل دینے کے بالکل قریب ہے اور ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل اس ممکنہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی تہران میں موجود ہیں، جنہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور چیف مذاکرات کار سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں امریکہ کے ساتھ جاری تنازعات کے خاتمے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے مسودوں پر باریک بینی سے غور کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں نے خطے میں مستقل قیامِ امن کے طریقہ کار اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا ہے۔ سفارتی ماہرین اس اہم ترین دورے کو مغربی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے انتہائی کلیدی قرار دے رہے ہیں۔
دیکھیے: میاں نواز شریف اور ازبک سفیر کی ملاقات؛ باہمی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق