وینکوور: فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ایک تاریخی اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے افغان مہاجرین پر مشتمل خواتین کی ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ یہ ٹیم، جو “افغان ویمن یونائیٹڈ” کے نام سے جانی جاتی ہے، طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد تقریباً 5 سال قبل ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھی اور تب سے بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت کے لیے کوشاں تھی۔
کینیڈا کے شہر وینکوور میں منعقدہ فیفا کونسل کے اجلاس میں قوانین میں خصوصی ترمیم کی منظوری دی گئی، جس کے تحت اس پناہ گزین ٹیم کو تسلیم کیا گیا۔ فیفا نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے افغان ویمنز یونائیٹڈ کو افغانستان کی “قومی ویمنز ٹیم” کا درجہ دے دیا ہے۔ فیفا کے اس فیصلے کے بعد اب یہ کھلاڑی پہلی بار کسی پناہ گزین کے بجائے اپنی باقاعدہ آفیشل قومی ٹیم کی حیثیت سے میدان میں اتریں گی۔
اگرچہ وقت کی کمی کے باعث یہ ٹیم 2027 میں برازیل میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کی اہل نہیں ہے، تاہم فیفا نے واضح کیا ہے کہ وہ 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپک گیمز کے کوالیفائنگ مقابلوں میں حصہ لے سکیں گی۔ فیفا کے صدر نے اپنے بیان میں اس فیصلے کو ایک “خوبصورت سفر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیفا کو ان کھلاڑیوں کی ہمت پر فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ان تمام فٹ بال ایسوسی ایشنز کی مدد کرنا ہے جو مخصوص حالات کی وجہ سے اپنی قومی ٹیمیں رجسٹر کرنے سے قاصر ہیں، تاکہ وہ متعلقہ کنفیڈریشنز کے ساتھ مل کر کھیل کے میدان میں واپس آ سکیں۔
دیکھئیے:کراچی کے رایان حبیب نے 15 گھنٹوں میں ’آئرن مین‘ ٹرائیتھلون مکمل کر کے تاریخ رقم کر دی