اسلام آباد: پاکستان میڈیا کی نظروں سے دور خاموشی کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل کو توڑنے کے لیے ایک نئے فارمولے پر کام کر رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، اسلام آباد کی کوششوں کا مرکز آبنائے ہرمز کی بحالی اور تہران کے جوہری پروگرام پر ایک طویل المدتی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک پاکستان کے ذریعے ‘بیک چینل’ سفارت کاری میں مصروف ہیں، جہاں تجاویز اور جوابی فارمولوں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے بعد ایک نئی امن تجویز پیش کی گئی ہے، جس میں ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے امریکی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، تہران کی جانب سے جوہری مذاکرات کو دوسرے مرحلے تک ملتوی کرنے کی تجویز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال آمادگی ظاہر نہیں کی، کیونکہ واشنگٹن دونوں مسائل کا بیک وقت حل چاہتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اس عمل میں ذاتی طور پر متحرک ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ ہفتوں میں کئی بار صدر ٹرمپ سے براہ راست رابطہ کیا ہے تاکہ ڈیڈ لاک کو ختم کیا جا سکے۔ پاکستانی حکام پر امید ہیں کہ سخت بیانات کے باوجود جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل میں خلل اور داخلی سیاسی دباؤ دونوں فریقین کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
دوسری جانب، ایران ایک ‘علاقائی سکیورٹی فریم ورک’ پر بھی کام کر رہا ہے اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو ممکنہ معاہدے کا ضامن بنانا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن کے لیے اپنی مستقل سفارت کاری جاری رکھے گا تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور مشرقِ وسطیٰ کی زندگیوں کو متاثر کرنے والے اس تنازع کا پرامن تصفیہ ممکن ہو سکے۔
دیکھئیے:اسلاموفوبیا اور ڈس انفارمیشن عالمی امن کے لیے خطرہ: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا احتساب کا مطالبہ