دہشت گردانہ کارروائیوں کا جواز پیش کرنے میں مسلسل ناکامی کے بعد فتنہ الخوارج نے تیزی سے من گھڑت حملوں کے دعوؤں، جھوٹے الزامات اور منظم پراپیگنڈے کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ اس گمراہ کن حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور شہریوں و ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج اپنے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کرنے کے لیے جعلی آپریشنل تفصیلات اور من گھڑت جانی نقصانات کا پراپیگنڈا پھیلاتا ہے۔ یہ گروہ اپنے دہشت گردوں کو شہری آبادی میں چھپا کر عام شہریوں کی جانوں کو سخت خطرے میں ڈالتا ہے اور پھر انہی حالات کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عام شہریوں کا بھیس بدل کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز واضح شناختی وردی میں باقاعدہ کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عناصر گھروں، اسکولوں اور مساجد میں اپنے کمانڈ مراکز اور اسلحہ چھپا کر انسانی و اسلامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
فتنہ الخوارج کا یہ پراپیگنڈا نیٹ ورک دراصل ان کی اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہے تاکہ عوام میں خوف و ہراس اور کنفیوژن پھیلائی جا سکے۔ سکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نوعیت کے جعلی پراپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے قبل صرف مستند و سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق کریں۔
دیکھیے: سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا و بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک