جرمن صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا جواز قابلِ قبول نہیں اور یہ عالمی قوانین کے منافی اقدام ہے

March 25, 2026

طالبان حکومت کے جابرانہ قوانین افغان عوام کے بنیادی حقوق اور مستقبل کیلئے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، جبکہ ریاستی ڈھانچے اور قانونی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے

March 25, 2026

اسرائیل ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اور اس مقصد کیلئے اس نے امریکی صدر کو استعمال کیا، تاہم ایران نے مزاحمت کرتے ہوئے بھرپور مقابلہ کیا۔

March 25, 2026

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی، جس کی ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھرپور تائید کی۔ یہ اقدام خطے میں پائیدار امن کے لیے ایشیائی ممالک کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے

March 25, 2026

سندھ طاس معاہدے پر بھارتی ہٹ دھرمی نے پاکستان کے آبی حقوق اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دریائی بہاؤ میں مداخلت سے زراعت، صحتِ عامہ اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے

March 25, 2026

خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی کے لیے طورخم بارڈر جزوی طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں جیلوں میں قید 2200 سے زائد افغان شہریوں کو خصوصی سکیورٹی میں واپس بھیجا جائے گا

March 25, 2026

جرمنی کی امریکا پر کھلی تنقید، ایران جنگ کو “تباہ کن غلطی” اور عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

جرمن صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا جواز قابلِ قبول نہیں اور یہ عالمی قوانین کے منافی اقدام ہے
جرمنی صدر کی امریکہ پر تنقید

اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو بھی یہ اقدام غیر ضروری اور خطرناک ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے

March 25, 2026

برلن: جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تباہ کن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

برلن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا جواز قابلِ قبول نہیں اور یہ عالمی قوانین کے منافی اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو بھی یہ اقدام غیر ضروری اور خطرناک ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن صدر کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ پر آواز اٹھانا قابل تحسین ہے۔

انہوں نے مغرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور یوکرین کے معاملات پر مغرب کا رویہ دوغلا ہے، جبکہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر خاموشی اس تضاد کو مزید واضح کرتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جو ممالک قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانی چاہیے۔

دیکھئیے:ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اور ایران کا ردعمل: جنگ بندی کے لیے تہران کی شرائط سامنے آگئیں

متعلقہ مضامین

طالبان حکومت کے جابرانہ قوانین افغان عوام کے بنیادی حقوق اور مستقبل کیلئے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، جبکہ ریاستی ڈھانچے اور قانونی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے

March 25, 2026

اسرائیل ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اور اس مقصد کیلئے اس نے امریکی صدر کو استعمال کیا، تاہم ایران نے مزاحمت کرتے ہوئے بھرپور مقابلہ کیا۔

March 25, 2026

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی، جس کی ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھرپور تائید کی۔ یہ اقدام خطے میں پائیدار امن کے لیے ایشیائی ممالک کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے

March 25, 2026

سندھ طاس معاہدے پر بھارتی ہٹ دھرمی نے پاکستان کے آبی حقوق اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دریائی بہاؤ میں مداخلت سے زراعت، صحتِ عامہ اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے

March 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *