برلن: جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تباہ کن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
برلن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا جواز قابلِ قبول نہیں اور یہ عالمی قوانین کے منافی اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو بھی یہ اقدام غیر ضروری اور خطرناک ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن صدر کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ پر آواز اٹھانا قابل تحسین ہے۔
انہوں نے مغرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور یوکرین کے معاملات پر مغرب کا رویہ دوغلا ہے، جبکہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر خاموشی اس تضاد کو مزید واضح کرتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جو ممالک قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانی چاہیے۔
دیکھئیے:ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اور ایران کا ردعمل: جنگ بندی کے لیے تہران کی شرائط سامنے آگئیں