اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے یوکرین کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، امریکی سہولت کاری سے مذاکرات کی بحالی اور سویلین آبادی کے تحفظ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

June 23, 2026

وانا میں فتنہ الخوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کر کے متعدد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

June 22, 2026

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 677 افغان صحافی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔

June 22, 2026

امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، خام تیل سستا جبکہ متعدد اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔

June 22, 2026

سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ہونے والے لوسرن سربراہی اجلاس کے پہلے دور میں امریکہ اور ایران نے 60 روز کے اندر جامع امن معاہدے کے روڈ میپ اور ہائی لیول نگرانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا۔

June 22, 2026

اقوام متحدہ میں افغان مندوب نصیر احمد اندیشہ کا بڑا بیان۔ طالبان کے حالیہ فیصلوں اور احکامات کو ملکی قوانین تسلیم کرنے سے انکار۔ افغان عوام طالبان پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

June 21, 2026

ایک جانب مذمتی بیانات اور دوسری جانب دہشت گردوں کی سرپرستی : مولانا ادریس کی شہادت پر افغان حکومت کی مذمت پر ماہرین کی تنقید

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔
افغان حکومت کی مذمت

عوامی سطح پر جاری کیے جانے والے یہ مذمتی بیانات اس تلخ حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ افغان سرزمین اب بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

May 7, 2026

چارسدہ: افغانستان کے سفیر سردار شکیب احمد نے چارسدہ میں جید عالم دین اور جے یو آئی کے رہنما مولانا ادریس شہید کے لواحقین سے ملاقات کی اور امارتِ اسلامیہ کا تعزیتی پیغام پڑھ کر سنایا۔ تاہم، دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ عوامی سطح پر جاری کیے جانے والے یہ مذمتی بیانات اس تلخ حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ افغان سرزمین اب بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

افغان سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حملہ آوروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن یہ محض ایک روایتی بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان دہشت گردوں کا دین سے تعلق نہیں تو انہیں افغان سرزمین پر نقل و حرکت، تربیت اور منصوبہ بندی کی مسلسل جگہ کیوں مل رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں، جہاں انہیں دوبارہ منظم ہونے اور کارروائیاں مربوط کرنے کے لیے مکمل سازگار ماحول میسر ہے۔

صرف 2025 میں 600 سے زائد سرحد پار حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ واقعات اتفاقی نہیں بلکہ ایک گہرے آپریشنل نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ مولانا ادریس جیسی مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانا اس منظم تشدد کے پیٹرن کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔ جب کسی علاقے کو بار بار حملوں کے لیے استعمال کیا جائے، تو اسے محض مذمتی بیانات سے پاک قرار نہیں دیا جا سکتا۔

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔ جب تک افغانستان اپنی زمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا، اس طرح کی تعزیتیں بے معنی رہیں گی اور افغان سرزمین دہشت گرد پراکسیز کے گڑھ کے طور پر دیکھی جاتی رہے گی۔

دیکھئیے:اگر طالبان رجیم ایک سال اور رہی تو افغانستان کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا؛ ڈاکٹر ماریہ سلطان کا دعویٰ

متعلقہ مضامین

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے یوکرین کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، امریکی سہولت کاری سے مذاکرات کی بحالی اور سویلین آبادی کے تحفظ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

June 23, 2026

وانا میں فتنہ الخوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کر کے متعدد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

June 22, 2026

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 677 افغان صحافی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔

June 22, 2026

امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، خام تیل سستا جبکہ متعدد اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔

June 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *