دہشت گردی کی نئی نسل صرف بارود سے نہیں لڑتی بلکہ بیانیے، نفسیاتی دباؤ اور اطلاعاتی جنگ کو بھی اپنا ہتھیار بناتی ہے۔ ہنگو میں پولیس اہلکاروں پر حالیہ حملہ اسی حقیقت کی ایک اور یاد دہانی ہے کہ دہشت گردوں کا اصل مقصد صرف چند جانیں لینا نہیں بلکہ پورے معاشرے میں خوف، بے یقینی اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے حملے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز، غیر مصدقہ دعوے اور مختلف بیانیے گردش کرنے لگتے ہیں۔ جدید دہشت گردی میں حملے کے بعد شروع ہونے والی اطلاعاتی مہم اکثر حملے کا دوسرا مرحلہ سمجھی جاتی ہے۔
ہنگو حملہ کیوں اہم ہے؟
حملے کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔
پولیس دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لائن سمجھی جاتی ہے۔
حملے کے بعد آن لائن بیانیے اور مختلف دعوے بھی زیرِ بحث آئے۔
واقعہ صرف سکیورٹی کا نہیں بلکہ اطلاعاتی جنگ کا بھی حصہ بن گیا۔
پولیس کیوں نشانہ بنتی ہے؟
دہشت گرد تنظیمیں جانتی ہیں کہ پولیس عوام کے سب سے قریب موجود ریاستی ادارہ ہے۔ تھانے، چیک پوسٹیں، گشت کرنے والی موبائلیں اور مقامی پولیس فورس براہِ راست شہریوں کے تحفظ سے وابستہ ہوتی ہے۔
اسی لیے پولیس پر حملہ دراصل ایک نفسیاتی پیغام بھی ہوتا ہے کہ ریاست کی پہلی دفاعی صف کو کمزور دکھایا جائے۔
لیکن زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں خیبرپختونخوا سمیت پاکستان بھر کی پولیس نے دہشت گردی کے خلاف ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور متعدد کارروائیوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا ہے۔
دہشت گردی کی دوسری جنگ: سوشل میڈیا
حملہ ختم ہونے کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہوتی ہے۔
یہ جنگ موبائل فون کی اسکرین پر لڑی جاتی ہے۔
اسی دوران مختلف ویڈیوز، تصاویر، آڈیو پیغامات اور دعوے سامنے آتے ہیں جن میں بعض اوقات حملے کی ذمہ داری، حملہ آوروں کے مقاصد یا واقعے کی نوعیت کے بارے میں متضاد بیانیے پیش کیے جاتے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان مخالف بیانیوں کو بعض غیر ملکی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی نمایاں کرتے ہیں، تاہم ایسے دعووں کا جائزہ ہمیشہ قابلِ اعتماد شواہد اور آزادانہ تصدیق کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں چلتی
بین الاقوامی تحقیق اور مختلف سرکاری رپورٹس یہ ظاہر کرتی رہی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں مالی وسائل کے لیے مختلف غیر قانونی ذرائع اختیار کر سکتی ہیں، جن میں:
• اغوا برائے تاوان
• بھتہ خوری
• اسمگلنگ
• غیر قانونی تجارت
• دیگر مجرمانہ سرگرمیاں
اسی لیے دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ مالیاتی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نظم اور مؤثر عدالتی کارروائی بھی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
ہنگو حملہ ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے۔
کیا دہشت گردی صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ ہے؟
جواب ہے نہیں۔
یہ ایک ساتھ تین محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ ہے:
سکیورٹی کا محاذ
اطلاعاتی اور ڈیجیٹل محاذ
عوامی اعتماد اور قومی بیانیے کا محاذ
اگر ریاست پہلے محاذ پر کامیاب ہو بھی جائے لیکن دوسرے اور تیسرے محاذ پر غلط معلومات، افواہیں اور غیر مصدقہ دعوے غالب آ جائیں تو دہشت گرد اپنے مقاصد کا کچھ حصہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ہنگو کے شہداء کی قربانیاں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ امن صرف سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ امانت ہے۔
ذمہ دار صحافت، مصدقہ معلومات، قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی وہ ستون ہیں جو دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی مزاحمت کو مضبوط بناتے ہیں۔
دہشت گرد حملہ کر سکتے ہیں، خوف پھیلانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں، لیکن اگر معاشرہ حقائق، تحقیق اور ذمہ داری کو ترجیح دے تو نہ صرف دہشت گردی بلکہ اس کے ساتھ چلنے والی اطلاعاتی جنگ بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔