رات کی تاریکی ہو یا پہاڑوں کی اوٹ، دہشت گرد ہمیشہ وہاں حملہ کرتے ہیں جہاں انہیں براہِ راست مقابلے سے بچنے کا موقع مل سکے۔ ہنگو میں پولیس پر ہونے والا حالیہ حملہ بھی اسی حکمتِ عملی کی ایک کڑی تھا۔ خوارج نے گھات لگا کر وار کیا، کیونکہ میدان میں سامنے آ کر لڑنے کی ہمت ان کے پاس نہیں۔ ان کا اصل ہدف صرف چند اہلکار نہیں تھے بلکہ وہ ریاست کی اس پہلی دفاعی لائن کو کمزور کرنا چاہتے تھے جو ہر روز عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حملے واقعی پولیس کے حوصلے توڑ سکتے ہیں؟
تاریخ اور زمینی حقائق اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ہر دہشت گرد حملے کے بعد پولیس نے نہ صرف اپنی ذمہ داریاں جاری رکھی ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ منظم اور مضبوط انداز میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد مسلسل گھات لگا کر حملوں کی حکمتِ عملی اپناتے ہیں، کیونکہ وہ کھلے میدان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر بھی اسی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ خوارج کی کارروائیوں کا ایک بڑا ہدف پولیس ہے۔ یہ حملے محض اتفاقی نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنے، امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور عوام میں خوف و بے یقینی پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ پولیس چونکہ شہریوں، سرکاری اداروں اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی ہے، اس لیے دہشت گرد اسے نشانہ بنا کر ریاست پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم زمینی حقیقت اس پروپیگنڈے سے مختلف نظر آتی ہے۔
مسلسل حملوں، شہادتوں اور زخمیوں کے باوجود پولیس کے عزم میں کمی نہیں آئی۔ ہر قربانی نے اس ادارے کے حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور دہشت گردی کے خلاف اس کے عہد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پولیس کے جوان آج بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کے تحفظ، قانون کی عملداری اور قومی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، اور دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی دیوار بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی صرف گولی یا بارود کا نام نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ بھی ہوتی ہے۔ ایسے حملوں کا مقصد خوف پیدا کرنا، ریاستی اداروں کا مورال گرانا اور یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ دہشت گرد اب بھی طاقت رکھتے ہیں۔ لیکن جب ہر حملے کے بعد پولیس پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ میدان میں واپس آتی ہے تو یہی دہشت گردی کی حکمتِ عملی اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔
ہنگو کا واقعہ بھی اسی تسلسل کی ایک مثال ہے۔ خوارج نے خوف کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی، مگر جواب میں پولیس کے جوانوں نے فرض شناسی، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی قربانیاں اس بات کی علامت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم، استقامت اور قومی ذمہ داری کے احساس سے بھی لڑی جاتی ہے۔
آخرکار، دہشت گردی کے ایسے بزدلانہ حملے پولیس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ ہر حملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ دہشت گردی کو شکست دے کر قانون کی بالادستی، امن اور قومی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ پولیس کے شہداء کی قربانیاں وطن سے غیر متزلزل وفاداری کی علامت ہیں، جبکہ پوری قوم ان قربانیوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور امن و استحکام کے قیام میں پولیس کے کردار کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
یہ جنگ صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ ریاست کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور معاشرے کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے، اور یہی حقیقت دہشت گردی کے ہر بزدلانہ حملے کے بعد پہلے سے زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔۔