طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔

May 7, 2026

معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق غازی نے بتایا کہ بھارت کے تباہ شدہ طیاروں میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل ہیں۔

May 7, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی کا نام نہاد بیانیہ اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو کر دفن ہو چکا ہے۔

May 7, 2026

ڈیورنڈ لائن کے اطراف جاری خاموش تبدیلیاں ایک نئی اسٹریٹجک حقیقت کو جنم دے رہی ہیں۔ نورستان اور غدوانا کے بعد اب ایک تیسرے افغان سرحدی علاقے نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا ہے

May 7, 2026

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا طرزِ حکمرانی نہ بدلا اور ملک کو ترقی پسند بنیادوں پر استوار نہ کیا تو افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے۔

May 7, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں ٹی ٹی پی نائب گورنر کا بھائی امان اللہ ہلاک ہوگیا۔ افغانستان سے ملنے والی ویڈیو نے سرحد پار روابط کی تصدیق کی ہے۔

May 7, 2026

ہرات – کابل ہائی وے پر خوفناک حادثہ، 81 افراد جاں بحق ہو گئے

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حادثات کو روکنے کے لیے سخت ٹریفک قوانین، ڈرائیوروں کی تربیت اور گاڑیوں کی تکنیکی جانچ ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر ایسے سانحات انسانی جانوں کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے رہیں گے۔
ہرات حادثہ

تاہم بعض غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق بس میں موجود مسافر حال ہی میں افغانستان واپس آنے والے مہاجرین تھے

August 20, 2025

ہرات ٹریفک حادثہ میں کم از کم 81 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ حادثہ ہرات کی شاہراہ حلقوی پر پیش آیا۔

طالبان کی ہرات پولیس کمانڈ کے مطابق ایک بس تیز رفتاری اور ڈرائیور کی غفلت کے باعث قابو سے باہر ہوگئی۔ بعد ازاں یہ بس مزدا گاڑی سے زور دار طریقے سے ٹکرائی۔

تصادم کے فوراً بعد مسافربس میں آگ بھڑک اٹھی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں شعلے اور دھواں واضح دیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی کوششیں کیں۔

ابھی تک زخمیوں کی درست تعداد سامنے نہیں آئی۔ تاہم بعض غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق بس میں موجود مسافر حال ہی میں افغانستان واپس آنے والے مہاجرین تھے۔ اس بات کی تاحال طالبان حکام نے باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

یہ المناک واقعہ ایک بار پھر افغانستان میں خطرناک سڑکوں، ناقص انفراسٹرکچر اور ڈرائیوروں کی لاپرواہی پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہرات سمیت کئی صوبوں میں ہائی ویز پر گاڑیاں اکثر اوقات تیز رفتاری سے چلتی ہیں، جو حادثات کا باعث بنتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حادثات کو روکنے کے لیے سخت ٹریفک قوانین، ڈرائیوروں کی تربیت اور گاڑیوں کی تکنیکی جانچ ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر ایسے سانحات انسانی جانوں کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے رہیں گے۔

دیکھیں: ایرانی حکام کی جانب سے افغان مہاجرین کی وسیع پیمانے پر بے دخلی

متعلقہ مضامین

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔

May 7, 2026

معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق غازی نے بتایا کہ بھارت کے تباہ شدہ طیاروں میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل ہیں۔

May 7, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی کا نام نہاد بیانیہ اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو کر دفن ہو چکا ہے۔

May 7, 2026

ڈیورنڈ لائن کے اطراف جاری خاموش تبدیلیاں ایک نئی اسٹریٹجک حقیقت کو جنم دے رہی ہیں۔ نورستان اور غدوانا کے بعد اب ایک تیسرے افغان سرحدی علاقے نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا ہے

May 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *