افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منسوب کتاب د اہل السنة والجماعة عقیدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے طرزِ عمل کا تقابلی جائزہ دونوں تنظیموں کے نظریاتی دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان گہرے تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔
کتاب کے صفحات 131 اور 132میں مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کی جان و مال کے نقصان سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس تحریک طالبان پاکستان پاکستان کے اندر شہریوں اور ریاستی اہلکاروں پر حملے کرکے ان صریح مذہبی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
صفحہ133 کے مطابق ظلم یا ناانصافی کے باوجود حکمران کے خلاف مسلح بغاوت جائز نہیں ہے جب تک صریح کفر کا ارتکاب نہ ہو۔ اس اصول کی روشنی میں ٹی ٹی پی کی ریاستِ پاکستان کے خلاف متواتر مسلح کارروائیاں اس کے نام نہاد مذہبی جواز کو یکسر مسترد کرتی ہیں۔
صفحات 108، 109 اور 135 سے 139 تک محض گناہ کی بنیاد پر تکفیر سے گریز اور اجتماعی وحدت کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے تکفیری نظریات اور فرقہ وارانہ انتشار پر مبنی اقدامات اس کتاب میں درج دینی تعلیمات سے مکمل متصادم ہیں۔
صفحہ 141پر عدل، امانت داری اور خیانت سے دوری کو بنیادی دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے عملی اقدامات ان تمام اخلاقی اور دینی اقدار کی نفی کرتے ہیں جن کا دعویٰ افغان قیادت کی اس کتاب میں کیا گیا ہے۔
ٹی ٹی پی چونکہ افغان طالبان کو اپنا فکری رول ماڈل مانتی ہے، اس لیے ملا ہیبت اللہ کی کتاب کے یہ اصول ٹی ٹی پی کے بیانیے کے خلاف ایک مضبوط نظریاتی سند ہیں۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی کا مذہب کا نام استعمال کرنا صرف اپنے مسلح مقاصد کی تکمیل کا ایک حیلہ ہے۔
افغان طالبان پر یہ دینی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنا افغان طالبان کے اپنے بیان کردہ مذہبی مؤقف اور عملی پالیسی کے تضاد کو عیاں کرتا ہے۔
افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنے دعووں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں تاکہ خطے میں امن قائم ہو اور دین کے نام پر ہونے والی سفاکیت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔





